شام سے متعلقہ دو ملین ای میلز کا اجراء

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دو ملین ای میلز اگست دو ہزار چھ سے مارچ دو ہزار بارہ کے دوران کی گئیں

وکی لیکس نے شام کی مختلف سیاسی شخصیات، وزارتوں اور کارپوریشنز کی جانب سے کی گئی چوبیس لاکھ سے زائد ای میلز کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔

وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کے مطابق ان ای میلز میں موجود معلومات نہ صرف شام کی حکومت بلکہ اس کے مخالفین کے لیے بھی باعثِ شرم ہیں۔

یہ چوبیس لاکھ ای میلز اگست دو ہزار چھ سے مارچ دو ہزار بارہ کے دوران کی گئیں۔ ان میں شام کی صدارتی امور، خارجہ، خزانہ، اطلاعات، مواصلات اور ثقافت کی وزارتوں کے درمیان ہونے والی ای میلز شامل ہیں۔

یہ واضح رہے کہ شام گزشتہ سولہ ماہ سے اندرونی بغاوت کا مقابلہ کر رہا ہے۔ جس میں حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق اب تک پندرہ ہزار آٹھ سو کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

وکی لیکس کی نمائندہ سارہ ہیریسن کے مطابق ’ان ای میلز میں موجود معلومات کا دائرہ کار (حکمران) بعث پارٹی کے اعلٰی ترین حکام کی جانب سے کی گئی ذاتی ای میلز سے لے کر شامی وزراء کی جانب سے شام سے دوسرے ممالک کو کیے گیے ما لیاتی تبادلوں کا ریکارڈ پر پھیلا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وکی لیکس وعدہ کرتی ہے کہ ان چوبیس لاکھ چونتیس ہزار آٹھ سو ننانوے میں سے کچھ ای میلز واضح کریں گی کہ ’کیسے مغربی دنیا اور مغربی کمپنیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔‘

ان ای میلز پر مشتمل خبریں مختلف خبر رساں ادارے آنے والے دنوں میں شائع کریں گے جن میں امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی، سپین کی ویب سا ئٹ پبلکو ڈاٹ ای ایس اور مصر کی المصری الیوم شامل ہیں۔

سارہ ہیریسن نےجولین اسانژ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ معلومات صرف ایک گروپ یا دوسرے گروپ پر تنقید کے لیے نہیں بلکہ ان کے مفادات، اقدامات اور خیالات کو سمجھنے میں مدد کے لیے ہے۔ صرف اس سمجھ سے اس تنازع کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔‘

جولین اسانژ آج کل برطانیہ سے سویڈن ملک بدر کیے جانے سے بچنے کے لیے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان پر سویڈن میں ریپ اور جنسی حملے کے الزامات ہیں۔

اسی بارے میں