لیبیا: تاریخی انتخابات میں لبرل آگے

لیبیا میں ووٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے چورانوے فیصد پولنگ سٹیشن معمول کے مطابق کھلے رہے

لیبیا میں سینتالیس برس کے بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق اس میں لبرل اتحاد نے سبقت حاصل کر رکھی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح ساٹھ فیصد رہی ہے۔

ابتدائی رجحانات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ طرابلس اور بنغازی جیسے کلیدی انتخابی حلقوں میں سیکولر اتحاد نے سبقت بنا رکھی ہے۔

نیشنل فورسز اتحاد کے ایک اہم رہنما نے کہا ہے کہ خبروں میں شنبہ کو ہونے والے انتخابات میں سیکولر اتحاد کو آگے دکھایا گیا ہے۔

اس دعوے کو مخالف اتحاد کی ایک اہم پارٹی اسلامی انصاف اور تعمیری پارٹی کے رہنما کے بیان سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'قومی اسمبلی کی دو سو نششتو ں میں سے صرف آٹھ سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی جبکہ باقی تمام آزاد امیدواروں کے حق میں جائیں گی۔

بہر حال انتخاب کرانے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان چند دنوں تک نہیں کیا جائے گا۔

ان انتخابات میں تین ہزار سے زیادہ امیدواروں نے حصہ لیا اور چند واقعات کے علاوہ پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی۔

لیبیا کے الیکشن کمشنر نوری الابار نے صحافیوں کو بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور پولنگ مراکز سے اطلاعات آ رہی ہیں۔ تاہم ووٹوں کی تعداد سولہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو کل ووٹرز کا ساٹھ فیصد ہے۔

اس الیکشن کا مقصد ایک عبوری اسمبلی کا چناؤ ہے جس کا کام کابینہ اور وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔ یہ عبوری حکومت لیبیا کا نیا آئین بنانے کے لیے ریفرنڈم کی تیاری کرے گی۔

واضح رہے کہ لیبیا میں اس وقت پینتیس لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن میں سے انتیس لاکھ افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔

لیبیا میں یہ انیس سو پینسٹھ کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں اور انیس سو پینسٹھ کے الیکشن میں بھی کسی سیاسی جماعت کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ووٹنگ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور دارالحکومت طرابلس سمیت متعدد شہروں میں ووٹروں کی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔

ایک ووٹر اسماء الدین عارفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں آخرِ کار آزاد محسوس کر رہا ہوں۔ میں یہ احساس بیان نہیں کر سکتا‘۔

لیبیا کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نوری الابار کا کہنا ہے کہ ملک کے چورانوے فیصد پولنگ سٹیشن معمول کے مطابق کھلے رہے اور عوام کے رش کی وجہ سے پولنگ کے وقت میں اضافہ بھی کیا گیا۔

ووٹنگ کے دوران ملک کے مشرقی علاقوں سے پرتشدد واقعات کی اطلاعات ملی ہیں اور اجدابیہ میں ایک شخص فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا ہے۔

الیکشن کے دن مشرقی لیبیا میں کئی پولنگ مراکز سکیورٹی خطرات کی بناء پر بند بھی رہے جبکہ راس لانوف اور بریگا میں مسلح افراد لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکتے رہے۔

مشرقی لیبیا میں متعدد افراد اس بات پر ناراض ہیں کہ انہیں دو سو نشستوں پر مشتمل اسمبلی میں صرف ساٹھ نشستیں دی گئی ہیں۔

طرابلس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ مشرقی لیبیا کے بعض قبائل کا خیال ہے کہ انہیں مرکزی دھارے سے اسی طرح دور رکھا جائے گا جس طرح لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیالس سالہ دورِ حکومت میں رکھا گیا تھا۔

لیبیا میں الیکشن کے ذمہ دار حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابی عمل میں نقائص موجود ہیں لیکن یہ ملکی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

نیشنل الیکشن کمیشن کے سلیم بن طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم مستقبل میں اسے بہتر کر سکتے ہیں لیکن قومی عبوری کونسل اور موجودہ حکومت اپنا جواز کھو رہے ہیں۔ لوگ اب ان کا احترام نہیں کر رہے اور حالات بےقابو ہوتے جا رہے ہیں‘۔

ادھر لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے کہا ہے کہ نئی پارلیمان ملک کا نیا آئین بنانے کے لیے پینل کے قیام کی ذمہ دار نہیں ہوگی اور اس ساٹھ رکنی کمیٹی کا انتخاب ایک اور الیکشن میں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں