آرمیینائی شہریوں کی نسل کشی پر قانون

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاندکا کہنا ہے کہ وہ سنہ انیس سو پندرہ اور سولہ میں آرمینیائی شہریوں کے قتلِ عام سے انکار کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے ایک نیا قانون لانا چاہتے ہیں۔

اسی موضوع پر پارلیمان سے منظور شدہ ایک قانون کو حال ہی میں فرانس کی آئینی کونسل نے منسوخ کر دیا تھا۔ کونسل کا کہنا تھا کہ یہ قانون اظہارِ رائے کی آزادی کے منافی ہے۔

ترکی، سلطنتِ عثمانیہ سے آرمینیائی افراد کو ملک بدر کرنے کے دوران پیش آنے والے ان واقعات کے لیے ’جینوسائڈ‘ یعنی قتلِ عام کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔

گزشتہ چند سالوں میں اس معاملے کی وجہ سے ترکی اور فرانس کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔

اس سے پہلے سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے بھی آئینی کونسل کے اقدام کے بعد اپنی حکومت سے اسی معاملے پر ایک نیا قانون بنانے کے لیے کہا تھا۔

فرانس میں ’ہولوکاسٹ‘ یعنی دوسری جنگِ عظیم میں جرمن نازی فوجوں کے ہاتھیں یہودیوں کی نسل کشی اور ترکی میں آرمینیائی شہریوں کے قتل ِعام کو جینوسائڈ قرار دیا جاتا ہے۔ ہولوکاسٹ کا انکار فرانس میں سنہ انیس سو نوے کے گیسوٹ نامی قانون کے تحت قابلِ سزا ہے۔

کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آرمینیائی شہریوں کے قتلِ عام کو عالمی کمیشن باضابطہ طور پر ’جینوسائڈ‘ قرار نہیں دیتا، اس کے انکار کو قابل سزا نہیں بنایا جا سکتا۔

تاہم سنیچر کو صدر اولاند کے دفاتر سے آنے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر نے نیا قانون بنانے کا وعدہ اپنی انتخابی مہم میں کیا تھا اور وہ اس وعدے کا پاس کریں گے۔

ترک حکومت کا موقف ہے کہ مشرقی ترکی میں سنہ انیس سو پندرہ اور سولہ کے واقعات کی تحقیقات کو تاریخ دانوں کے زمرے میں رہنے دیا جائے اور یہ قانون آزادیِ اظہارِ رائے کے خلاف ہے۔

آرمینیا کا دعویٰ ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے ٹوٹنے پر پندرہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں کم تھی۔

ان واقعات کو باضابطہ طور پر جینوسائڈ ماننے والے ممالک میں ارجنٹینا، بلجیئم، کینیڈا، اٹلی، روس اور یوراگوئے شامل ہیں جبکہ برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل ان کے لیے مختلف الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

فرانس میں تقریباً پانچ لاکھ آرمینیائی نژاد افراد مقیم ہیں جبکہ تقریباً ساڑے پانچ لاکھ ترک شہری بھی بستے ہیں۔

اسی بارے میں