چین: افراطِ زر کی شرح میں ریکارڈ کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افراط زر کی شرحوں میں کمی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے سبب آئی ہے

چین میں افراط زر کی شرح میں تیزی سے کمی آئی ہے جس سے پالیسی سازوں کو معاشی ترقی کی رفتار بہتر بنانے کے مزید مواقع ملیں گے۔

چین میں معاشی اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کے مطابق جون کے مہینے میں گزشتہ برس کے مقابلے میں عام اشیاء کی قیمتوں میں کافی کمی آئی ہے۔

اس وقت افراط زر کی شرح دو اعشاریہ دو ہے جو اس سال مئي کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔ حکومت کا ہدف اسے چار فیصد تک لانا تھا جس میں وہ کامیاب رہے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی افراظ زر کی شرح میں کمی کی اہم وجہ ہے۔

چین میں گزشتہ برس سور کے گوشت کی قیمتیں زیادہ بڑھنے کے سبب افراط زر کی شرح زیادہ ہوئی گئی تھی۔ اس سال گوشت کی قیمت بارہ اعشاریہ دو فیصد گرنے سے بھی مجموعی شرح بہتر ہوئی ہے۔

ایک ایسے وقت جب عالمی معاشی بحران کے سبب چين سے برآمدات میں کمی آئی ہے معاشی ترقی کی رفتار کو بہتر کرنے کے لیے ملک میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

جون کے آغاز سے اب تک چین کے مرکزی بینک نے دو بار سود کی شرح میں کمی کا اعلان کیا اور اس وقت قرض پر سود کی شرح چھ فیصد تک کر دی گئی ہے۔

قرضوں کی فراہمی آسان بنانے کے لیے سینٹرل بینک نے بینکوں کے رقوم کے ذخائر کی سطح میں کمی کا اعلان کیا جس کا مثبت اثر دیکھا گیا ہے۔

ہانگ کانگ میں چینی اقتصادیات پر نظر رکھنے والے ماہر زانگ ژیوی کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے انہیں حکومت کی طرف سے ایسے ہی مزید اقدامات کی توقع ہے۔

ان کا کہنا تھا ’صارفین کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے پالیسی سازی میں مزید آسانی ہوگي جس سے ہمیں امید ہے کہ رفتار مزید بڑھےگي‘۔

چین کے وزیراعظم وین جی باؤ نے بھی اسی موقف کی تائید کی۔ اختتام ہفتہ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کی رفتار مستحکم کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا ’عام طور پر چین کی موجودہ اقتصادی حالت مستحکم ہے لیکن پھر بھی اس پر زبردست دباؤ ہے‘۔

اسی بارے میں