’لاکھوں کمپیوٹرز پر انٹرنیٹ بند ہوسکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سازش کے دوران کمپیوٹر صارفین کو مخصوص اشتہارات دیکھائے جاتے اور اس کے عوض اس گروہ کو پیسے ملتے

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے کہا ہے کہ پیر کے روز دنیا بھر میں تین لاکھ سے زیادہ کمپیوٹروں پر انٹرنیٹ کی سہولت بند ہو سکتی ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایف بی آئی کئی ایسے انٹرنیٹ سرورز کو بند کرنے جا رہا ہے جن کا استعمال غیر قانونی اقدامات کے لیے یا سائبر حملوں میں ہو رہا تھا۔

واضح رہے کہ بند ہونے والے زیادہ تر کمپیوٹر سرورز امریکہ میں ہی موجود ہیں لیکن بعض دوسرے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان سرورز کو نو جولائی سے بند کیا جائے گا۔

ایف بی آئی نے گزشتہ سال نومبر میں ایک ایسے گروہ کو پکڑا تھا جو اُس وقت تک چالیس لاکھ سے زیادہ کمپیوٹروں میں وائرس ڈال چکا تھا۔ اسی تفتیش کے دوران ایف بی آئی کو ان سرورز کا پتہ چلا جہاں سے یہ وائرس انٹرنیٹ کے نظام میں ڈالے جا رہے تھے۔

تفتیش سے واضح ہوا کہ جس کمپیوٹر پر بھی ان سرورز کے ذریعے وا‏‏ئرس ڈالا جاتا، اُس کمپیوٹر کو استعمال کرنے والوں کو مخصوص اشتہارات دیکھائے جاتے اور اس کے عوض اس گروہ کو پیسے ملتے۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ کئی کمپیوٹروں پر اس گروہ کی جانب سے ڈالے گئے وائرس کے اثرات ابھی بھی موجود ہیں۔

خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انٹرنیٹ سہولیات کی فراہمی میں تعطل کے بعد صارفین کے لیے ان کی خدمات جلد از جلد دوبارہ بحال کر دی جائیں گی۔

کہا جاتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے اس گروہ نے ایک کڑوڑ چالیس لاکھ ڈالر کمائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ایسا اس لیے کر سکے کہ انھوں نے ’ڈومین نیم لک اپ‘ نامی نظام پر قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں