آئین کا احترام سب پر لازم:مصری فوجی کونسل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مصر کی آئینی عدالت کی جانب سے صدر مرسی کے پارلیمان کی بحالی کے صدارتی فرمان کو مسترد کیے جانے کے بعد ملک کی طاقتور فوجی کونسل کا کہنا ہے کہ ہر صورت میں ملک کے آئین کا دفاع اور احترام کیا جانا چاہیے۔

فوجی کونسل کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے پارلیمان کو تحلیل کر کے ملک کی آئینی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کیا تھا اور ہر کسی کو اس فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین و قانون کا احترام کریں گے۔

اس بیان کو صدر مرسی کے لیے فوج کی جانب سے تنبیہ اور ایک چیلینج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کے مطابق بظاہر مصر میں سیاسی سمجھوتہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق فوجی کونسل کا یہ بیان اخوان المسلمون کے ان کارکنوں کو اشتعال دلانے کا باعث بن سکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ فوج پارلیمان کی تحلیل کے بعد خود کو نئے اختیارات دے کر قانون کا احترام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ادھر قاہرہ کے التحریر سکوائر میں پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ منگل کو صدر مرسی کی ہدایت پر بحال شدہ پارلیمان کے سپیکر نے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے ایوان کا اجلاس طلب کیا ہوا ہے۔

اس سے قبل مصر کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے صدر محمد مرسی کی طرف سے تحلیل شدہ پارلیمان کو بحال کرنے کے صدارتی فرمان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمان کی تحلیل کا فیصلہ حتمی تھا۔

پیر کو اعلیٰ آئینی عدالت نے ایک اجلاس کے بعد کہا کہ اس کے فیصلے اور فرمودات حتمی ہیں اور ان کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔

ادھر صدر اور فوج کے درمیان اس تنازع کے باوجود صدر مرسی اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی پیر کو فوج سے تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کی گریجویشن تقریب میں شریک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصری صدر اور فوج کے سربراہ فوجی کیڈٹس کی گریجویشن تقریب میں شریک ہوئے

محمد مرسی کی طرف سے صدارتی فرمان جاری ہونے کے بعد سپیکر نے پارلیمان کا اجلاس منگل کو بلانے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو قاہرہ میں مصر کی قومی پارلیمان کے باہر تعینات فوجیوں کو ہٹا لیا گیا اور پارلیمان کے اراکین کو عمارت میں جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عسکری پولیس پہلے پارلیمان کے آس پاس کے علاقے کو گھیرے میں لے کر آنے جانے کے راستے بند کر دیے تھے لیکن سوموار کو عسکری پولیس نے یہ گھیرا ختم کر کے پارلیمان کے اراکین کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔

گزشتہ ماہ مصر کی عدالتِ عظمیٰ نے نو منتخب پارلیمان کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا جس پر حکمران فوجی کونسل نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی تھی۔

اعلٰی آئینی عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ پارلیمانی انتخابات میں ایک تہائی اراکین غیر قانونی طور پر منتخب ہوئے تھے اور آزاد امیدواروں کے لیے مختص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے مقابلہ کیا جس کی وجہ سے پارلیمان تحلیل کی گئی۔

اتوار کو پارلیمان کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے صدر مرسی کا کہنا تھا کہ ایوان کو نئے انتخابات کے انعقاد تک بحال کر دیا جائے۔

محمد مرسی نے جن کی جماعت اخوان المسلمون کو پارلیمان میں اکثریت حاصل ہوئی تھی، کہا تھا کہ نو منتخب پارلیمان کو نئے انتخابات کے انعقاد تک کام کرنے دیا جانا چاہیے۔