بم حملے، امریکی فوجیوں سمیت پچیس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 9 جولائ 2012 ,‭ 21:21 GMT 02:21 PST

امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد امریکی تھے

افغانستان کے مختلف علاقوں میں مزاحمت کاروں کے حملوں اور سڑک کنارے نصب بموں کے پھٹنے سے سات غیر ملکی فوجیوں سمیت پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاکتوں کے یہ تمام واقعات اتوار کو پیش آئے ہیں۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج میں شامل چھ امریکی فوجی مشرقی افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنے۔

نیٹو نے ابتدائی طور پر جاری کردہ بیان میں ہلاکتوں کی تصدیق تو کی لیکن مرنے والوں کی قومیتوں کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ تاہم اب امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد امریکی تھے۔

نیٹو کا ایک فوجی اتوار کو طالبان عسکریت پسندوں کے حملے کا نشانہ بنا جبکہ صوبہ قندھار میں ہونے والے تین دھماکوں میں اٹھارہ افراد مارے گئے۔

قندھار کی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق نے بتایا کہ دو بم پاکستانی سرحد سے ملحقہ ضلع ارغستان میں سڑک کے کنارے نصب تھے اور مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

صوبہ قندھار میں ہونے والے تین دھماکوں میں اٹھارہ افراد مارے گئے

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بم کا نشانہ ایک کار بنی جبکہ دوسرا بم اس وقت پھٹا جب ایک ٹریکٹر پر سوار افراد پہلے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے۔ ان دونوں دھماکوں میں سولہ شہری مارے گئے

تیسرا دھماکہ اسی ضلع میں ان دو دھماکوں کے چند گھنٹے بعد ہوا اور اس میں دو عورتیں ہلاک ہوئیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغان جنگ کے دوران گزشتہ برس سب سے زیادہ شہری ہلاکتوں کے واقعات پیش آئے اور ان واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔

رواں برس شہری ہلاکتوں کے واقعات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم اب بھی افغان شہری آئے روز بم حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔