اسرائیل: سابق وزیراعظم مجرم قرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسرائیل میں ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت کو اپنے دوست کو فائدہ پہنچانے کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے۔ البتہ عدالت نے انہیں دو بڑے الزامات سے بری کر دیا ہے۔

عدالت انہیں اس مقدمے میں سزا بعد میں سنائےگی۔

عدالت نے ایہود اولمرت کو وزیر کے طور پر اپنے کاروباری دوست کو غیر قانونی طور پر نوازنے کا مجرم قرار دیا جبکہ انہیں رشوت ستانی اور چندہ جمع کرنےکی مہم کے دوران جعلی بل پیش کرنے جیسے بد عنوانی کے الزامات میں بری کر دیاگیا ہے۔

اولمرت پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہے جنہں اس قسم کے الزامات کا سامنا ہے ۔

الزامات کے تحت انہیں جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ عدالت سزا کا فیصلہ بعد میں سنائے گی۔

اس کے علاوہ اولمرت کو ایک اور مقدمے کا بھی سامنا ہے۔ اس کیس میں ان پر الزام ہے کہ جب وہ یروشلم کی میئر تھے تو انہوں نے ہولی لینڈ کے نام سے جائیداد بنائی۔

یروشلم میں بی بی سی کے نمائندے کیون کونالی کے مطابق اولمرت کو ایسے الزامات سے بری کر دیاگیا ہے جنہیں بہت سے اسرائیلی زیادہ سنگین الزامات سمجھتے ہوں گے۔

ان پر جو الزامات عائد کئے ہیں ان میں ایک امیر کاروباری شخصیت سے رقوم سے بھرے ہوئے لفافے اور اسرائیل کے مختلف رفاہی اداروں سے سفری اخراجات کے جعلی بل وصول کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

اولمرت انیس سو ترانوے سے دو ہزار تین تک یروشلم کے میئر رہے اور پھر اسرائیلی کابینہ میں تجارت کے وزیر بنے دو ہزار چھ میں ایرئیل شیرون کی بیماری کے بعد وزیراعظم بنے۔

اسی بارے میں