پاکستان ریلوے بیاسی ارب روپے کا مقروض

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان ریلوے گزشتہ کافی عرصے سے شدید مالی بحران سے دوچار ہے اور اسی وجہ سے اسے کئی ریل گاڑیاں بند کرنا پڑی ہیں

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریلوے غلام احمد بلور نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا محکمۂ اس وقت بیاسی ارب تئیس کروڑ روپے کا مقروض ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریلوے کے کل چار سو چورانوے انجنوں میں سے تین سو چھتیس انجن اس وقت خراب حالت میں کھڑے ہیں۔

قومی اسمبلی میں ریلوے کی صورتحال کے بارے میں کیے جانے والے سوالات کے تحریری جوابات دیتے ہوئے ریلوے کے وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ کل چار سو چورانوے انجنوں میں سے تین سو بیس ڈیزل اور سولہ بجلی سے چلنے والے انجن اس وقت خراب حالت میں کھڑے ہیں۔

ریلوے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں

وزیر ریلوے کے مطابق سال دو ہزار آٹھ سے سال دو ہزار بارہ تک ریلوے کی بحالی پر تقریباً تیرہ ارب انتیس کروڑ تیس لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

قومی اسمبلی میں ریلوے کی ابتر صورتحال کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا کہ :’محکمۂ اس وقت بیاسی ارب تئیس کروڑ روپے کا مقروض ہے اور ان میں بیالیس ارب روپے بیرونی جبکہ چالیس ارب روپے کے اندرونی قرضے ہیں۔‘

غلام احمد بلور نے بتایا کہ پاکستان میں فورنسک جانچ پڑتال کی سہولت دستیاب نہیں ہے اور اس وجہ سے گزشتہ چار سال سے ریلوے کی فورنسک یا تکنیکی جانچ نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مختلف کمپنیوں سے اوپن میرٹ کے تحت ریلوے کے تکنیکی اور مالی جانچ کرانے کی تجاویز مانگی گئی اور ان میں سے کامیاب کمپنی کو فورنسک کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔

غلام احمد بلور کے مطابق ریلوے کی بہتری کے لیے منصوبہ بندی کمیشن نے ایک حکمت عملی مرتب کی ہے اور حکومت کی منظوری کی بعد اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔

اسی بارے میں