سنگاپور: سزائے موت کے قانون پر نظرثانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجویز کردہ قانون کے تحت قتل کے مقدمات میں موت کی سزا صرف ارادہ قتلِ کی صورت میں دی جائے گی

سنگاپور کی حکومت نے منشیات فروشی اور قتل کے جرائم میں دی جانے والی موت کی سزا میں تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے۔

موجودہ قانون کے تحت منشیات اور قتل کے جرائم کی سزا موت ہے۔

سنگاپور حکومت نے جو تبدیلیاں تجویز کی ہیں ان کے مطابق عدالت کے پاس استحقاق ہو گا کہ وہ چھوٹے منشیات فروش جو پولیس کی معاونت کرنے کو تیار ہیں ان کو موت کی سزا نہ دی جائے۔

تجویز کردہ قانون کے تحت قتل کے مقدمات میں موت کی سزا صرف ارادہ قتلِ کی صورت میں دی جائے گی۔

سزائے موت پر عملدرآمد جولائی 2011 سے روک دیا گیا ہے۔ یہ قانون اس سال کے آخر میں منظور کیا جائے گا اور جن مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے وہ اس نئے قانون کے تحت اپیل کر سکتے ہیں۔

تجویز کردہ قانون کے تحت عدالت چاہے تو مجرم کو سزائے موت بھی دے سکتی یا پھر اگر قانون میں دی گئی شرائط پوری ہوتی ہیں تو عمر قید کی سزا بھی دے سکتی ہے۔

سنگا پور کے نائب وزیر اعظم کے مطابق منشیات فروشی کے جرائم میں جو شرائط تجویز کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجرم منشیات تیار کرنے والا یا سپلائر نہ ہو، دوسری یہ کہ اگر وہ حکام کے ساتھ تعاون کرے یا پھر ذہنی طور پر معذور ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ قتل کے مقدمات میں سزائے موت صرف ارادہِ قتل کی صورت میں دی جائے گی۔

اس وقت سزائے موت کے پینتیس مجرم سزا پر عملدرآمد کے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اٹھائیس کو منشیات اور سات کو قتل کے مقدمات میں سزا ملی ہے۔

سنگاپور کے وزیر قانون کے شموگم کا کہنا ہے کہ سزائے موت کو ختم نہیں کیا جا رہا۔ ’عدالتوں کو ان مقدمات کے حوالے سے زیادہ اختیارات دیے جا رہے ہیں۔‘

سنگاپور حکومت کا مؤقف ہے کہ سزائے موت کے قانون کے باعث قتل کی وارداتیں بہت کم ہیں اور منشیات فروشی بھی کافی حد تک کنٹرول میں ہے۔

تاہم سزائے موت کے قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون بہت سخت ہے۔

اسی بارے میں