یوروزون: سپین کو تیس بلین یورو کی امداد

Image caption ہسپانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے سپین میں وسیع تر ریاستی پیمانے پر امداد کی ضرورت نہیں پڑی۔

یورو زون ممالک کے وزرائے خزانہ نے سپین کو تیس بلین یورو دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس رقم کا مقصد سپین کے بینکاری کی صنعت میں جاری شدید بحران سے نکالنا ہے۔

بیلجیئم کے شہر برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس میں وزراء کا کہنا تھا کہ یہ رقم جولائی کے آخر تک فراہم کی جا سکے گی۔

یورپی یونین کی مقررہ تین فیصد کی حد میں بجٹ خسارہ لانے کے لیے سپین کو دی گئی مہلت کو بڑھا کر حتمی تاریخ سنہ دو ہزار تیرہ تک ملتوی کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

خدشات ہیں کے سپین کے بینک ملک کو مکمل طور ریاستی امدادی قرضے لینے پر مجبور کریں گے۔

یورو زون کے ممالک نے جون میں سپین کو ایک سو بلین یورو دینے کی منظوری دی تھی جس پر ہسپانوی وزیرِ اعظم ماریانو راہوئے نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اقدام کو یورو کرنسی کے لیے ایک فتح قرار دیا تھا۔

یورو گروپ کے صدر جین کلاڈ ہنکنر کا کہنا تھا کہ وہ جولائی کے آخر تک سپین کے پارلیمانی قوائد کو سامنے رکھتے ہوئے ایک باضابطہ معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت تیس بلین یورو کی پہلی قسط فراہم کی جا سکے۔ ان کے مطابق اس امداد کا مقصد سپین کی بینکاری کی صنعت کی فوری ضرویات کو پورا کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس قرضے کے ساتھ مخصوص بینکوں کے لیے شرائط بھی منسلک ہوں گی اور مالیاتی صنعت کو مضبوط تر بنانے کے لیے سرپرستی بھی کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپین کو اپنے عوامی معاملاتِ خزانہ کو یورپی یونین کے ضوابط کے تحت بنانے کے لیے اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

سنیچر کے روز وزیرِ اعظم راہوئے نے اعلان کیا تھا کہ سپین کا خسارہ کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔

اسی بارے میں