’طالبان کی شاعری اور اکیلا جنجگو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں موسیقی پر پابندی کے باوجود یہ بات حیران کن ہے کہ افغانستان میں شدت پسند شاعری اور موسیقی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اب جب نیٹو نے سنہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے انخلاء کا اعلان کیا ہے شاعری کے ذریعے دیو مالائی جنگجوؤں کی کہانیوں کو ایک بار پھر زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

طالبان کی جانب سے افغانستان میں موسیقی اور گانوں پر پابندی کے با وجود، شدت پسند یہ سمجھتے ہیں کہ افغان ثقافت میں موسیقی پرورش پا رہی ہے۔

افغانستان کے قبائلی جنگجوؤں کی ہمت بڑھانے کرنے کے لیے صدیوں سے رزمیہ نظمیں پیش کی جاتی رہی ہیں۔

افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج جہاں اپنے آپریشنز ختم کر رہی ہیں وہیں اسلامی شدت پسند اپنی ثقافتی روایات کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان شدت پسندوں کو یقین ہے کہ شاعری کو نعروں میں منتقل کرنے سے نئے جنگجوؤں کو جلدی متاثر کرنے اور انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ رواں برس کے اوائل میں طالبان نے ایک نئی ویب سائیٹ شروع کی جسے ’تارانی‘ کا نام دیا گیا۔

’تارانی‘ کے معنی ’نعرے‘ یا ’جذباتی گیت‘ کے ہیں۔

اس ویب سائیٹ کے ذریعے درجنوں مختلف گلوکاروں کے سینکڑوں نعروں کا لنک فراہم کیا جاتا ہے۔

اس ویب سائیٹ کے علاوہ رواں برس طالبان کی نظموں پر مشتمل کتاب کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔

طالبان کی جانب سے اس شاعری یا نعروں کی توثیق کی بعد انہیں پشتو یا دری زبانوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ افغان مجاہدین اور گوریلا جنگجو سنہ انیس سو اسی کی دہائی میں سویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کے دوران جنگجوؤں کو لڑائی پر راغب کرنے کے لیے حب الوطنی اور مذہبی نعروں کا استعمال کرتے تھے۔

افغانستان میں طالبان کی سنہ انیس سو چھیانوے سے لیکر سنہ دو ہزار ایک تک حکومت کے دوران طالبان کا پروپیگینڈا ڈیپارٹمنٹ ایسے افراد جو موسیقی بجاتے سنتے یا بیچتے کو سزا دیتا تھا تاہم وہ شاعری کی حوصلہ افزائی کرتا اور موسیقی کے بغیر گائیکی کی اجازت دیتا تھا۔

ماضی کے برعکس طالبان کا یہ ڈیپارٹمنٹ اب ایسے مواد کی تیاری اور تقسیم کی اجازت دیتا ہے۔

اس کام کے سرکاری اعدادو شمار ظاہر نہیں کیےگئے تاہم یہ واضح ہے کہ افغانستان میں یہ ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایسے متعدد گانے پاکستان میں تیار کیے جاتے ہیں تاہم ان کی نقل افغانستان کے شہروں میں تیار کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پشاور میں موسیقی کی ایک دکان کے مالک عبدل رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسٹوں کا کاروبار کم ہو چکا ہے کیونکہ اب جس کے پاس کمپیوٹر ہے وہ اس کی مدد سے کیسٹوں کی نقل تیار کر سکتا ہے۔

افغانستان کے طالبان موبائل ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہ ’بلو ٹوتھ‘ کے ذریعے ایم پی تھریز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ متعدد طالبان ان نعروں کو رنگ ٹونر کے طور پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر قبلہ ایاز نے بی بی سی کو بتایا کے طالبان کے نعرے بہت مؤثر ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری آسان اور پر اثر ہوتی ہے اور مقامی افراد پر جلدی اثر انداز ہوتی ہے۔

ستارویں صدی میں ایک پشتو شاعر، جنگجو اور قبائلی سربراہ خوشحال خان خٹک نے ایسی نظمیں لکھ کر پشتونوں کو غیر ملکی اور مغل حکمرانوں کے خلاف یکجا کیا تھا۔

طالبان کی شاعری میں عام شہریوں بشمول خواتین اور بچوں پر حملے کیے جانے کا ذکر کم ہی ہوتا ہے اور افغان میڈیا کی جانب سے ان حملوں کی عام طور پر مذمت کی جاتی ہے۔

افغانستان میں حکام نے ایسی کیسٹوں اور ڈی وی ڈیز پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان کی جانب سے ایسی دکانوں اور گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں جہاں ان کی فروخت ہوتی ہے۔

نیٹو کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سکیورٹی چیلنجز کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اگر کہیں طالبان کا اثر ہے تو وہ تشدد کی وجہ سے ہے۔

افغانستان کے جنوبی اور مشرقی صوبوں میں طالبان کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہ موسیقی اورگانے سننے والوں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ایک دیہاتی نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے ہمیں کہا ہے کہ ہم موسیقی یا گانوں کی بجائے صرف جہادی نعروں سنیں۔

افغانستان میں متعدد افراد طالبان کے خوف سے بچنے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے جہادوں نعروں کی رنگ ٹونز اپ لوڈ کرتے ہیں۔

افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے غزنی میں موجود حاجی محبوب کا کہنا ہے کہ طالبان ان کے موبائل فونز کو چیک کرتے ہیں۔

اسی بارے میں