عراق میں شام کے سفیر منحرف ہوگئے

نواف فارس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نواف فارس کو سنہ دو ہزار آٹھ میں عراق میں شام کا سفیر تعینات کیا گیا تھا

عراق میں شام کے سفیر نواف فارس نے منحرف ہو کر شامی حکومت کی مخالف قوتوں کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

ادھر شامی صدر بشار الاسد کے مخالف، مغربی ملکوں نے اقواِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کا مسودہ بانٹنا شروع کیا ہے جس میں شامی صدر کو تشدد کے خاتمے کے لیے دس دن کی مہلت دی جائے گی اور اگر دس دن میں تشدد ختم نہ ہوا تو شام پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

نواف فارس شام کے پہلے سینیئر سفارتکار ہیں جنہوں نے بشار الاسد کی حکومت سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

گزشتہ ہفتے شام کے ایک طاقتور اور صدر الاسد کے قریبی سمجھے جانے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی جنرل بھی منحرف ہوگئے تھے۔

شامی سفیر نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کیا۔

شامی باغیوں کے پرچموں کے سائے تلے بیٹھ کر ایک تحریر شدہ بیان پڑھتے ہوئے نواف فارس نے کہا کہ ’میں برادر ملک عراق میں عرب جمہوریہ سوریہ(شام) کے سفیر کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہوں‘۔

انہوں نے شام کی حکمران بعث پارٹی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

اپنے بیان میں نواف نے شام کی صورتحال کو ’ایک ظالمانہ حکومت کے قاتلوں کی جانب سے کیا گیا خوفناک قتل عام‘ قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام میں حقیقی اصلاحات کی امید باقی نہیں رہی۔

نواف فارس کو سنہ دو ہزار آٹھ میں عراق میں شام کا سفیر تعینات کیا گیا تھا اور وہ تین دہائیوں میں عراق جانے والے پہلے شامی سفیر تھے۔

وہ اس تعیناتی سے قبل کئی صوبوں کے گورنر بھی رہے۔ شام کے ہمسایہ ملک لبنان میں موجود بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ نواف سنّی قبیلے اقیدت کے سربراہ بھی ہیں جو عراق اور شام کے سرحدی علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اس قبیلے کے علاقے میں دیر الزور کا شہر باغیوں کے حمایتیوں کا گڑھ بن چکا ہے اور اسے حالیہ ہفتوں میں بمباری کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

تشدد بند کریں ورنہ پابندیاں

شامی سفیر کے منحرف ہونے کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ممالک نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کی دھمکی دے۔

شام کے معاملے پر سلامتی کونسل تقسیم کا شکار ہے۔ کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین شامی صدر بشارالاسد کے خلاف سخت کارروائی کے حق میں نہیں، جبکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس، شام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

صدر بشارالاسد کے مخالف ممالک کی قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر شام میں دس دن میں تشدد ختم نہ ہو تو پھر اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں اپنے مبصر مشن کے مستقبل پر بات چیت کے لیے اجلاس کر رہی ہے اور یہ قرارداد اس مشن میں توسیع کی قرارداد کا حصہ ہوگی۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کا مینڈیٹ آئندہ ہفتے کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں