امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران پر مزید نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی وزراتِ خزانہ کے مطابق اس نے ایسی متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جس کے بارے میں یقین ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاوں کے حصول میں مدد فراہم کر رہی تھیں۔

امریکی وزراتِ خزانہ کے مطابق اس نے ایسی متعدد کمپنیوں اور بینکوں کی نشاندہی کر لی ہے جو ایران کو موجودہ پابندیوں سے بچانے کے لیے اس کی مدد کر رہی ہیں۔

ایران کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم امریکہ اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اس کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے اہلکار ڈیوڈ کوہن کا کہنا ہے جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے خدشات کو دور نہیں کرتا ہم ایران پر دباؤ بڑھاتے رہے گے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں میں ان کمپنیوں کو بھی شامل کرنا ہے جن کا تعلق ایران کی وزارتِ دفاع، ریولوشنری گارڑز اور ان کی قومی شپنگ لائن سے ہے۔

بیان کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ نے ایسے چار افراد کا پتہ چلایا ہے جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان چار افراد میں سے ایک ایران کی ریولوشنری گارڑز کےایک کمانڈر علی فداوی بھی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک اس سے پہلے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

دنیا کی چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے متنازع جوہری پروگرام پر ماسکو میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی افزدگی کو بیس فیصد تک کم کرے اور ایران کے شہر قم میں قائم زیرِ زمین افزودگی سینٹر کو بند کر دے۔

اسی بارے میں