امریکی وزیرِ خارجہ مصر کا دورہ کریں گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption ’مصری عوام کو وہ ملنا چاہیے جس کے لیے انہوں نے احتجاج کیا اور ووٹ ڈالے‘ امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن مصر کے دورے پر روانہ ہونے والی ہیں جہاں وہ نو منتخب صدر مرسی سے اہم ملاقات کریں گی۔

اس بات کا امکان ہے کہ ہلری کلنٹن مصری صدر سے اندرونی اور خارجہ پالسیوں کے چند عناصر پر ضمانتیں مانگیں گی۔

ادھر صدر مرسی فوج کے ہاتھوں عدلیہ کے احکام پر تحلیل شدہ پارلیمان کو بحال کرنے کے بعد ایک آئینی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے ماضی میں صدر مرسی کی حمایت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ مصر کے عوام کو ان کی خود منتحب حکومت ملنی چاہیے۔

اخوان المسلمین کے محمد مرسی جون میں مصر کے پہلے آزادانہ طور پر منتخب صدر بننے تھے۔

قاہرہ سے بی بی سی کے جان لیئن کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکہ کا موقف تھا کہ ہم اخوان المسلمین سے نہ بات چیت کرتے ہیں اور نہ ہی کبھی کرئیں گے۔

نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ صدر اوباما کی انتظامیہ نے نو منتخب مصری صدر سے بات چیت کا رستہ کھولنے میں کوئی تاخیر نہیں کی اور یہ حقیقت کو پہچاننے اور حالات کے بہترین استعمال کی مثال ہے۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ مصر میں جمہوریت اور انسانی حقوق پامال نہ ہوں۔

اخوان المسلمین نے کئی مرتبہ اس بات کی تائید کی ہے کہ وہ عالمی طور پر تنہا نہیں ہونا چاہتے۔ مصر کی معیشت کا انحصار بین الاقوامی تجارت اور سیاحت پر بہت زیادہ ہے۔

صدر مرسی نے پارلیمان کی بحالی کے معاملے پر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے کہ نو منتخب پارلیمان میں صدر کی پارٹی کے ارکان کی اکثریت ہے۔

صدر کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فوج نے پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا جس کی وجہ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے یہ اعتراض تھا کہ انتخابات میں آزاد امیدواروں کے لیے مختص کی گئی نشستوں پر پارٹی اہلکاروں نے مقابلہ کیا تھا۔

مصر میں سپریم آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ پارلیمان کی تحلیل حتمی ہے۔

ادھر صدر مرسی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مصری ججوں کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ریاستی طاقتوں کے درمیان تناؤ نہ پیدا ہو۔‘

اس ہفتے کے آغاز میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ مصری عوام کو وہ ملنا چاہیے جس کے لیے انہوں نے احتجاج کیا اور ووٹ ڈالے اور وہ ہے ایک مکمل طور پر منتحب حکومت جو کہ مصر کو مستقبل میں لے جاتے ہوئے خود فیصلے کرے۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ اس وقت ایک ہفتے کے ایشیا کے دورے پر ہیں جس کے بعد وہ اسرائیل بھی جائیں گی۔

اسی بارے میں