شام: حما میں ’باغیوں‘ کو نشانہ بنایا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوام متحدہ کے مبصرین کے وفد کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے صوبے حما کے ایک گاؤں تریمسہ میں باغیوں کے گھروں کو نشانہ بنایا۔

مبصرین کے مطابق شامی فوج نے حملے میں توپ خانے اور مارٹروں کا استعمال کیا۔

تریسمہ میں مبصرین کے دورے کے بعد اقوام متحدہ کی ترجمان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق دو سو افراد کو قتل کیا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ مبصرین کی ابتدائی تفتیش سے تریسمہ میں عام شہریوں کو قتل کیے جانے کی اطلاع کی بظاہر تردید ہوتی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین کی ابتدائی تفتیش شامی حکومت کے اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے کہ تریمسہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

واضح رہے کہ شامی حکام کی جانب سے ایسے بھاری ہتھیاروں کا استعمال اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کو دی جانے والی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کی ترجمان سوسن گوشیش کا کہنا ہے کہ تریمسہ پر کیے جانے والے حملے میں توپ خانے، مارٹر اور بھاری ہتھیار استمعال کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق تریمسہ کے متعدد گھروں میں ہر طرف خون ہی خون نظر آ رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے مبصرین کے مطابق انہوں نے حما سے پچیس کلومیٹر شمال مغرب کی جانب واقع اس گاؤں میں متعدد ایسے مکانات دیکھے جو بری طری متاثر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ واضح نہیں تاہم وہ اتوار کو اس گاؤں کا دوبارہ دورہ کریں گے۔

تریسمہ کے گاؤں میں ہونے والی ہلاکتوں پر بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے تاہم شامی حکومت کا اصرار ہے کہ یہ کارروائی باغیوں کے خلاف کی گئی۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی رہنماؤں نے شام کےصوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں ہونے والے قتلِ عام کی شدید مذمت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا قتل عام پر کہنا تھا کہ اس واقعہ نے شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے امن منصوبے پر عملدرآمد کے وعدے کو شک میں ڈال دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ شامی حکومت جان بوجھ کر بے قصور شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں شام کے صوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں قتل عام کی خبریں سن کر شدید دھچکا پہنچا۔

کوفی عنان نے حما کے گاؤں تریمسہ میں ہونے والے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت نے چھ نقاطی امن منصوبے کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام میں جاری تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مربوط ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کا مینڈیٹ بیس جولائی کو ختم ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں اپنے مبصر مشن کے مستقبل کے لیے نئی قرار داد لانے پر تذبذب کا شکار ہے۔

دوسری جانب شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے درعا میں سینکڑوں سپاہیوں نے جنہیں ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی حملہ کیا۔

شام کے آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ شام میں سنیچر کو تشدد کے مختلف واقعات میں مزید اٹھائیس افراد ہلاک ہو گئے جبکہ جمعہ کو بھی ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک سولہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں