افغانستان: وزیرِ تعلیم کے قافلے پر حملہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty

افغانستان میں ذرائع کے مطابق شمالی افغانستان میں وزیرِ تعلیم عبید اللہ عبید کے قافلے پر بم حملہ کیا گیا۔ حملے میں حکومتی وزیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تاہم ان کے دو محافظ زخمی ہوگئے ہیں۔

ان کے ہمراہ سفر کرنے والے بغلان صوبہ کے گورنر منشی ماجد نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ قافلہ بغلان سے کُندوز کی طرف رواں تھا جب اس میں سے ایک گاڑی سڑک پر نصب ایک بم سے جا لگی۔ ان کہنا تھا کہ وزیرِ تعلیم عبید اللہ محفوظ ہیں جبکہ ان کی حفاظت کے لیے تعنات دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

گزشتہ دو روز میں افغانستان میں کسی اعلیٰ سطحی اہلکار پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے پہلے شمالی افغانستان میں ایک شادی کی تقریب میں خودکش دھماکے میں اہم سیاسی رہنما اور افغان پارلیمنٹ کے ممبر احمد خان سمنگنی سمیت کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے میں چالیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ صوبہ سمنگن کے دارالحکومت ایبک میں ہوا تھا۔ خودکش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب وہ احمد خان سے بغلگیر ہوئے۔ طالبان کے ترجمان زبیح اللہ نے اس حملے میں طالبان کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ طالبان ترجمان زبیح اللہ نے خبررساں ادارے رائٹر کوبتایا کہ طالبان اس حملے میں ملوث نہیں ہیں۔

ادھر جمعے کے روز ملک کے مشرق حصے میں خواتین کے امور کے سربراہ کو بھی ایک بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دہشتگردوں نے بظاہر اپنا اثر ملک کے محفوظ سمجھے جانے والے شمالی علاقے تک بڑھا لی ہے۔ افغانستان میں غیر رسمی بم دہشتگردوں کا سب سے محلق ہتھیار ہے اور اب تک شہریوں کے ساتھ ساتھ افغان اور عالمی فوجیوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی۔

.

اسی بارے میں