شام: دمشق میں شدید لڑائی کی اطلاعات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں اور شہریوں کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق میں اب تک کی شدید لڑائی جاری ہے۔

دمشق کے مضافات میں دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آ رہے ہیں جبکہ شامی فوجی فری سیرین آرمی کے باغیوں کو دارالحکومت سے باہر دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ لڑائی بین القوامی امدادی ایجنسی ریڈ کراس کے اس بیان کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں ایجنسی نے کہا تھا کہ شام میں جاری لڑائی کو خانہ جنگی قرار دیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج اور فری سیرین آرمی کے باغیوں کے درمیان دمشق میں لڑائی جاری ہے جو شام کے اقتدار کا مرکز بھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لڑائی میں ٹینکوں اور مارٹروں استمعال کیے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دمشق سےشہریوں کا انخلا جاری ہے جبکہ شہر کے دوسری حصوں میں مظاہرین نے ٹائر جلا کر موٹر ویز بلاک کر دی ہیں۔

دوسری جانب شامی حکومت نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران صوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں بھاری ہتھیار استعمال کرنے تردید کی تھی۔

شام میں موجود اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے حما صوبے کے گاؤں تریمسہ میں باغیوں کے خلاف کارروائی میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا تاہم دمشق نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اگر یہ الزامات سچ ثابت ہو گئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دمشق نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس سے پہلے شام کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس کے مطابق شامی فورسز نے حما صوبے کے علاقے تریمسہ میں باغیوں کے خلاف کارروائی میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

شام نے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بہت جلد بازی میں بیان دیا۔

شامی حکومی نے مزید کہا کہ علاقے میں فوجیوں کو لیجانے والے گاڑیاں اور چھوٹے ہتھیار ہی استعمال کیے گئے۔

شامی حکومت کا موقف ہے کہ علاقے میں جو کچھ ہوا وہ دراصل مسلح جھڑپیں تھیں نہ کہ قتلِ عام، جس میں اب تک صرف سینتیس ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ تاہم حزبِ مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ تریسمہ کے گاؤں میں ہونے والی ہلاکتوں پر بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی تاہم شامی حکومت کا اصرار ہے کہ یہ کارروائی باغیوں کے خلاف کی گئی۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی رہنماؤں نے شام کےصوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں ہونے والے قتلِ عام کی شدید مذمت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا قتل عام پر کہنا تھا کہ اس واقعہ نے شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے امن منصوبے پر عملدرآمد کے وعدے کو شک میں ڈال دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ شامی حکومت جان بوجھ کر بے قصور شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں شام کے صوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں قتل عام کی خبریں سن کر شدید دھچکا پہنچا۔

کوفی عنان نے حما کے گاؤں تریمسہ میں ہونے والے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت نے چھ نقاطی امن منصوبے کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام میں جاری تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مربوط ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کا مینڈیٹ بیس جولائی کو ختم ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں اپنے مبصر مشن کے مستقبل کے لیے نئی قرار داد لانے پر تذبذب کا شکار ہے۔

دوسری جانب شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے درعا میں سینکڑوں سپاہیوں نے جنہیں ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی حملہ کیا۔

شام کے آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ شام میں سنیچر کو تشدد کے مختلف واقعات میں مزید اٹھائیس افراد ہلاک ہو گئے جبکہ جمعہ کو بھی ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک سولہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں