قرضوں میں رعایت، یورپ کا مسئلہ حل ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یورپی اتحاد کے کئی ممالک اس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہیں

یورپ میں سیاسی رہنماوں کی جانب سے معاشی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور تجاویز کے باوجود تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ کا واپس خوشحالی کی جانب سفر ہموار نہیں ہو گا۔

یونان میں مالی بحران کے حوالے سے کفایت شعاری کے اقدامات سے بہت سارے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ ممالک حسد کے جذبے کے ساتھ ان افریقی ممالک کی طرف دیکھتے ہیں جنھیں نوے کی دہائی کے آخر میں نئے اقتصادی سفر کا آغاز کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے قرضوں سے نجات دلا دی گئی تھی۔

دنیا کے انتہائی مقروض اور غریب ممالک کو جامع ریلیف دینے کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کا یہ پہلا قدم تھا۔

عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک کے افریقی خطے کے لیے اعلیٰ معاشی ماہر سنتیانن دیوراجن کے مطابق’اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ممالک معاشی اصلاحات کے ساتھ بہتر مالی اور تجارتی پالیسیاں اختیار کریں اور صرف اسی ہی صورت میں انہیں قرضوں میں رعایت دی جا سکتی ہے۔‘

افریقہ کا بچت اصلاحات کی بجائے شرح نمو میں اضافے کی حکمت عملی کی جانب جانے کا بہت واضح فیصلہ تھا۔

افریقی ممالک کو قرضوں میں رعایت دینے کے ساتھ یورپ میں بھی اس قسم کی ایک مثال موجود ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد معاشی بحالی کی کوششوں میں مارشل پلان کے تحت امریکہ نے ایک بہت بڑا امدادی پیکج دیا تھا اور یہ جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک کو قرضوں سے نکالنے کی حکمت عملی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افریقی ممالک کو قرضوں میں سہولت دینے سے وہاں غربت میں کمی آئی

لندن سکول آف اکنامکس میں اکناملک ہسٹری کے پروفیسر البرٹ رسچل نے وضاحت کی کہ جرمنی نے کس طرح قرضوں سے نکلنے کا پیکج وصول کیا۔

’مارشل پلان کے تحت امداد وصول کرنے والے ہر ملک کو ایک شرط پر دستخط کرنے تھے جس میں کہا گیا تھا مارشل پلان کے تحت امداد جو پہلے جرمنی کو دی گئی تھی جب تک جرمنی کی جانب سے یہ قرض ادا نہیں کیا جاتا اس وقت کوئی اور محصولات نہیں لگائے جائیں گے، اس کا مطلب تھا کہ سنہ انیس سو سینتالیس کے بعد جرمنی کا قرض روک دیا گیا تھا۔

جرمنی کو قرضوں کی مد میں ملنے والی رعایت، اس کے قومی بجٹ میں نظر آتی ہے۔

انیس سو پچاس کے شروع میں جرمنی کی قومی بچت میں ملکی قرضوں کی شرح بیس فیصد سے کم تھی اور اسی وقت برطانیہ میں یہ شرح ایک سو پچہتر فیصد کے قریب تھی۔

اس کے بعد جرمنی نے مختلف ممالک اور لوگوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کیے۔

سنہ انیس سو پچاس، ساٹھ اور نوے کی دہائی میں صرف ایک ملک یونان نے شدید احتجاج کیا تھا۔

قرضوں کی معافی کے بعد جرمنی خوشحال ہوا اور بعض لوگوں کے خیال میں اب وقت ہے کہ اس کی تلافی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ’ملک کا پڑھا لکھا طبقہ اور ذرائع ابلاغ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت تک معاشی بحران سے نہیں نکل سکتے جب تک بڑے قرضے ختم نہیں کر دیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption یورپ کے بعض ممالک میں مالی بحران پر قابو پانے کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں

سپین، ائر لینڈ اور یونان جیسے ممالک بلاشبہ ایک نئی ابتداء کرنا چاہتے ہونگے لیکن عالمی بینک کے اہلکار سینتانن کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہو گی کہ آئندہ دس سال میں قرضوں کا بحران دوبارہ نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ’یہ حقیقت ہے کہ یہ ممالک قرضوں کے بحران سے دوچار ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ کوئی مسئلہ موجود ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ان ممالک کو مقابلے کے رحجان کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں میں بہتری، زیادہ برآمدات اور زیادہ ٹیکس محصولات اکٹھے کرنے ہونگے۔

سینتانن نے کہا کہ قرضوں میں رعایت ملنے کے نتیجے میں افریقی ملک گھانا کے پالیسی سازوں نے اپنے وسائل کو قرض واپس کرنے میں صرف کرنے کی بجائے تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری پر خرچ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرضوں میں رعایت کا اطلاق ہر کسی پر نہیں ہونا چاہیے۔

’اس میں کوئی ایسا معیار ہونا چاہیے کہ کس کو یہ رعایت ملنی چاہیے۔ کچھ ملک اس حالت میں نہیں ہیں کہ ان کو قرضوں میں رعایت دی جائے۔ اس کے لیے تمام قریقین کا ایک اجتماعی فیصلہ ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ گھانا کو دو ہزار کی دہائی کے شروع میں قرضوں میں رعایت دی گئی تھی اور اس کے بعد یہاں پر تیزی سے ترقی اور خاص طور پر غربت میں تیزی سے کمی ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ قرضوں میں سہولت حاصل کرنے والے دیگر ایسے ممالک بھی ہیں جہاں پر اقتصادی ترقی اور غربت میں خاتمے کے اعتبار سے تجربات زیادہ بہتر نہیں رہے۔

’یہاں پر سینیگال کی مثال دی جا سکتی ہے جہاں پر گھانا، روانڈا اور ایتھوپیا کے مقابلے میں زیادہ اقتصادی ترقی نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے غربت میں زیادہ کمی نہیں ہو سکی۔

قرضوں میں ملنے والی سہولت میں کچھ حصہ امیر ممالک میں ٹیکس ادا کرنے والوں کا ہوتا ہے لیکن اس میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ قرضوں میں سہولت یا رعایت اصلاحات کے پروگرام کے ساتھ ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے پروگرام کا حکم باہر سے نہیں ملنا چاہیے اور یہ ملک کی سیاسی قیادت کو اتفاق رائے سے طے کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں