اسرائیل: فلسطینی قیدیوں کے رشتہ داروں کا دورہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس موقع پر بہت سے لوگ آبدیدہ ہوگئے

پیر کو گزشتہ پانچ سال میں پہلی بار اسرائیلی جیلوں میں موجود غزہسے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کے رشتہ داروں کو جیل میں ملاقاتوں کے لیے آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پیر کی صبح قیدیوں کے رشتہ داروں پر مشتمل چالیس افراد کا ایک گروہ غزہسے جنوبی اسرائیل، اریض ٹرمینل کے راستے داخل ہوا۔

اسرائیل نے مئی میں فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال ختم کروانے کے لیے ایک معاہدے کے تحت اس اقدام کی منظوری دے دی تھی۔

سنہ دو ہزار سات میں مسلح تنظیم حماس کے غزہمیں اقتدار میں آنے کے بعد قیدیوں اور ان کے لواحقین کی ملاقاتوں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔

اسرائیل کے محکمہِ جیل خانہ جات کی ترجمان سیوان وائزمین نے بتایا کہ کل چوبیس قیدیوں کے رشتہ داروں کو ملاقات کی اجازت دی گئی ہے جو کہ دو گھنٹے تک جاری رہے گی۔

بین الاقوامی ہلالِ احمر کمیٹی نے یہ ملاقاتیں ممکن بنائی ہیں اور وہ ان میں انتظامی امداد بھی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا بتایا ریڈ کراس (ہلالِ احمر) کی کوشش ہے کہ یہ پالیسی اسرائیل میں موجود ساڑے پانچ سو قیدیوں کے لیے اپنائی جائے۔

اسرائیل اور فلسھینی علاقوں میں ہلالِ احمر کے سربراہ ہوان پیڈرو کا کہنا تھا ’یہ ایک پہلا قدم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ غزہسے ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل طور پر بحال ہو جائے گا۔‘