’شامی حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواف فارس نے گزشتہ ہفتے بشار الاسد کی حکومت سے علیحدگی اختیار کی تھی

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت سے منحرف ہونے والے اعلیٰ ترین اہلکار نواف فارس نے کہا ہے صدر بشارالاسد اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

مسٹر فارس بغداد میں شام کے سفیر تھے اور گزشتہ ہفتے شامی حکومت سے منحرف ہو گئے تھے۔

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے شام کی حکومت کو ایک زخمی بھیڑیے سے تعبیر کیا جو اپنی بقاء کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت نے مختلف شہروں میں بمباری کی بڑی کارروائیاں کیں اور اس مقصد کے لیے القاعدہ کے کارکنوں کو استعمال کیا۔

نواف فارس شام کے پہلے سینیئر سفارتکار ہیں جنہوں نے بشار الاسد کی حکومت سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

گزشتہ ہفتے شام کے ایک طاقتور اور صدر الاسد کے قریبی سمجھے جانے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی جنرل بھی منحرف ہوگئے تھے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے تازہ ترین واقعات، شامی حکام کے حکومت سے منحرف ہونے اور دمشق کے قریب لڑائی میں تیزی اس بات کی علامات ہیں کہ شامی حکومت سخت دباؤ میں ہے اور وہ قائم نہیں رہے گی۔

کلنٹن نے زور دیا کہ شام میں اب بھی اقتدار کی سیاسی منتقلی کے لیے وقت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر روس اور چین صدر بشار الاسد پر دباؤ ڈالیں تو اس کا براہ راست اثر ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جبکہ شام سے خبریں آرہی ہیں کہ وہاں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان لڑائی دارالحکومت دمشق کے قریب پہنچ گئی ہے۔

شام میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ دمشق کے مختلف علاقوں میں بکتربندگاڑیاں تعینات کر دی گئی ہیں اور باغیوں کو منتشر کرنے کے لیے بکتربند گاڑیوں کے ساتھ فوجی دستے میدن ضلع میں داخل ہوگئے۔

اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ شام کے خلاف پابندیوں پر روس سے بات کرنے کی مغربی ممالک کی کوششوں میں ’بلیک میلنگ کا عنصر‘ شامل ہے۔

مسٹر سرگئی لاوروف نے کہا کہ مغرب نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس اس کی قرارداد کے مسودے کی مخالفت کرے گا تو اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے مشن کو ختم کر دیا جائے گا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان ماسکو پہنچنے والے ہیں اور توقع ہے کہ وہ روس سے اپیل کریں گے کہ روس سیاسی تبدیلی کے لیے شام پر مزید دباؤ ڈالے۔

اسی بارے میں