شام کی سمت کیا ہے؟

شام میں تشدد تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ایسے واقعات ہیں جن میں شامی فوج کے اہلکار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے گئے کیونکہ سڑک کے ذریعے جانے میں خطرات تھے‘

(بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جانتھن مارکس کے مراسلے کا ترجمہ)

دمشق میں ہونے والا حملہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والی تحریک کا اہم نکتہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک بمبار کا ایسے علاقے میں داخل ہو کر حملہ کرنا جہاں انتہائی سخت سکیورٹی ہو، حکومت کی اپنے اہم ارکان کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے اور اس سے ریاست کے سکیورٹی کے نظام کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

لیکن اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ مذکورہ واقعے کی تفصیلات نہ صرف واضح نہیں ان کے بارے میں متضاد آراء ہیں اور انہیں بیان کرنے والوں کے اپنے عزائم بھی ہیں۔

جس عمارت میں بظاہر بم پھٹا وہ نقصان سے کیسے محفوظ رہی؟ شام کا سرکاری ٹی وی ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تصاویر کیوں نہیں دکھا رہا جو کہ وہ عام طور پر کرتا ہے؟

ہر بات میں سازش تلاش کرنے والوں کی شاید یہاں چاندی ہو جائے، لیکن ایک ایسی حقیقت ضرور ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

شام کی حکومت کی طرف سے کسی ایسی خبر کے سامنے آنے کو صدر اسد اور ان کے حامیوں کے لیے صرف تباہ کن ہی قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں بتایا گیا ہو کہ باغی حکومت کے مرکز میں حملہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اس سے پیغام ملتا ہے کہ اگر ان افراد کو ریاستی سکیورٹی نظام تحفظ نہیں فراہم کر سکتا تو پھر کون کر سکتا ہے؟ اور اسی پہلو سے یہ واقعہ شام کے مستقبل کے لیے ہونے والی لڑائی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

شامی فوج کے اعلیٰ درجوں سے ارکان کے منحرف ہونے کی رفتار میں اضافہ اور لڑائی دمشق کے اہم علاقوں تک پھیل جانے کے بعد مبصرین کہہ رہے ہیں کہ اب سوال یہ نہیں کہ کیا شام کی حکومت ختم ہو جائے گی بلکہ سوال یہ ہے کہ ایسا کب ہوگا؟

اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے خبردار کیا ہے کہ شام کی صورتحال حد سے بڑھ سکتی ہے۔

شام کی فوج کے پاس توپخانہ، ٹینک اور فضائیہ کی طاقت تو ہے لیکن زیادہ یہی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ان کی حقیقی کارکردگی متاثر کن نہیں ہے۔

مغربی ذرائع کے مطابق بہت سے ایسے واقعات ہیں جن میں شامی فوج کے اہلکار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے گئے کیونکہ سڑک کے ذریعے جانے میں خطرات تھے۔

لیکن کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ معاملہ صرف صدر اسد اور ان کے حامیوں کا ہے۔ کئی مہینوں سے جاری شدید لڑائی میں فرقہ واریت کا عنصر بھی پیدا ہو گیا ہے۔ صدر اسد کے علوی حامیوں کے پاس چھپنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں، جس سے خدشات جنم لے رہے ہیں کہ اگر صدر اسد اقتدار سے ہٹ بھی گئے تو فرقہ وارانہ تشدد جاری رہے گا۔

اس پس منظر میں عالمی سفارتی کوششیں بہ سود نظر آ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ صدر اسد کی طرف سے امن منصوبہ قبول نہ کیے جانے کی صورت میں ان کی حکومت کے خلاف پابندیوں کے لیے قرارداد منظور کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔ روس ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف ہے اور اس میں اسد حکومت سے قرب سے زیادہ اس کے اپنے مفادات اور مغرب کی عدم مداخلت کے بارے میں اس کے نظریات کا عمل دخل ہے۔

لیکن جنگ بندی کی عدم موجودگی میں ان کا کیا کردار ہوگا یہ واضح نہیں۔ زمین پر ہونے والے واقعات اس مسئلے کی سمت متعین کر رہے ہیں اور سفارتکاری کو زمینی حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اسی بارے میں