شام:خودکش دھماکے میں وزیرِ دفاع سمیت تین جنرل ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شام کے دارالحکومت دمشق میں وزراء کے ایک اہم اجلاس میں ہونے والے خود کش دھماکے میں وزیر دفاع جنرل داؤد راجحہ اور نائب وزیر دفاع جنرل آصف شوکت اور کرائسز مینیجمنٹ کے سربراہ جنرل حسن ترکمانی ہلاک ہو گئے ہیں۔

جنرل آصف شوکت شام کے صدر بشار الاسد کے برادرِ نسبتی بھی تھے۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق یہ خودکش دھماکہ دمشق میں نیشنل سکیورٹی کی عمارت میں کابینہ کے وزراء اور اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ایک اہم اجلاس کے دوران ہوا۔

اطلاعات کے مطابق دھماکے میں وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ شدید زخمی ہوئے ہیں اور حکومت مخالف فری سیریئن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب حکومت مخالفین کا دعویٰ ہے کہ دمشق ایک بڑے حملے کی زد میں ہے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر میں کہا گیا کہ ’وزیر دفاع نیشنل سکیورٹی کی عمارت پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں‘۔ کچھ دیر بعد سرکاری ٹی وی نے اس دھماکے میں جنرل شوکت کے ہلاک ہونے کی خبر بھی نشر کی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار صدر بشار الاسد کے قریب ترین رفقاء کے محافظ تھے۔

جنرل راجحہ کو وزیر دفاع بنے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ اس سے قبل وہ چیف آف سٹاف تھے۔ ان کا نام امریکہ نے مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے باعث بلیک لسٹ کردیا گیا تھا۔

جنرل شوکت اعلیٰ ترین سکیورٹی سربراہ تصور کیے جاتے تھے اور وہ صدر کے قریب ترین رفقاء میں سے تھے۔ جنرل ترکمانی نائب صدر کے اسسٹنٹ تھا اور بشار الاسد کے کرائسز مینیجمنٹ سیل کے سربراہ تھے۔ وہ وزیر دفاع بھی رہ چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومت مخالفین کا دعویٰ ہے کہ دمشق ایک بڑے حملے کی زد میں ہے

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ شام میں تشدد بند کرانے کے لیے متحد ہو کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بان کی مون نے بیجنگ میں چینی صدر ہو جن تاؤ سے ملاقات کے بعد کہا کہ چینی رہنما اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ شام میں حالات انتہائی سنگین ہیں۔

سلامتی کونسل بدھ کو شام کی صورت حال پر ایک اجلاس کرنے والی ہے۔ بان کی مون نے امید ظاہر کی کہ بدھ کو سلامتی کونسل کسی متفقہ اقدام کرنے پر تیار ہو جائے گی۔ چین اور روس دو مرتبہ شام کی موجودہ حکومت کے خلاف قرارداد کو ویٹو کر چکے ہیں

ذمہ داری قبول اور مزید دھماکے

شامی حکومت کے مخالف فری سیریئن آرمی نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم ایک جہادی تنظیم شہداء بریگیڈ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ دمشق میں شامی فوج کے فورتھ ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں دھماکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دمشق میں شدید جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

فورتھ ڈویژن ہیڈ کوارٹر شامی فوج کا سب سے بہترین طور پر لیس ڈویژن تصور کیا جاتا ہے۔ صدارتی محل کی حفاظت کی ذمہ داری اسی ڈویژن کے سپرد ہے۔ تاہم شام کے وزیر برائے اطلاعات نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے۔

دمشق میں حکومت اور مخالفین کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ پر دستیاب ایک ویڈیو میں دارالحکومت دمشق میں ایک بیرک کو آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا ہے۔

حکومت کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ دمشق کی ’آزادی‘ اب زیادہ دور نہیں ہے۔ جبکہ سرکاری ذرائع نے دمشق پر بڑے حملے کی اطلاعات کو رد کر دیا ہے۔

اس حملے کے کچھ دیر بعد شامی افواج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے شام اب مزید پرعزم ہے۔

اسی بارے میں