اسرائیلی سیاح ’خودکش حملے‘ کا شکار ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دھماکے سے جائے وقوع پر موجود تین بسوں کو نقصان پہنچا تھا

یورپی ملک بلغاریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سیاحوں سے بھری بس میں ہونے والا دھماکہ ممکنہ طور پر ایک خودکش حملہ تھا۔

بدھ کو ساحلی شہر برگس میں ہونے والے اس حملے میں چھ اسرائیلی اور ایک بلغارین شہری ہلاک اور تیس افراد زخمی ہوئے تھے۔

بلغاریہ کے وزیرِ خارجہ سویتن سویتانوو نے جمعرات کو بتایا کہ یہ مبینہ طور پر ایک خودکش حملہ آور کی کارروائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ حملہ آور کو سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں حملے سے ایک گھنٹہ قبل بس کے قریب موجود دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس شخص کے پاس امریکی ریاست مشی گن کا جاری کردہ ڈرائیونگ لائسنس تھا جو کہ جعلی بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل عینی شاہدین نے اسرائیلی ٹی وی کو بتایا تھا کہ بس برگس کے ہوائی اڈے کے باہر کھڑی تھی جب اس میں ایک شخص داخل ہوا اور اس کے بعد ایک شدید دھماکہ ہوا۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’دھماکے میں چھ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، ایک شدید زخمی نے ہسپتال میں دم توڑا جبکہ دو شدید زخمی انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کے علاوہ تیس افراد کو طبی امداد دی گئی ہے‘۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس واقعے کے تمام شواہد ایران کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان کا ملک اس کا بھرپور جواب دے گا۔

بلغاریہ اسرائیلی سیاحوں میں تفریح کے لیے مقبول ملک ہے۔ خبروں کے مطابق اسرائیل نے جنوری میں بلغاریہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ بس کے ذریعے سفر کرنے والے اسرائیلی سیاحوں کی حفاظت کے انتظامات کو بہتر کرے۔.

اسی بارے میں