لندن: پانچ مشتبہ افراد پر فردِ جرم عائد

Image caption چار ملزمان کو رواں ماہ کے اوائل میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کے ایک آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا

برطانوی دارالحکومت لندن میں پانچ مشتبہ افراد پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

ان پانچ میں سے تین افراد پر دہشتگردی کی کارروائی کی منصوبہ سازی اور اس تیاری کرنے جبکہ ایک مرد اور خاتون پر دہشتگردی سے متعلق مواد رکھنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ان ملزمان میں ایلنگ کے انتیس سالہ رچرڈ ڈارٹ، نارتھ ہولٹ کے اکیس سالہ عمران محمود، سٹریٹفرڈ کے چھبیس سالہ جہانگیر عالم اور ہکسٹن کی بائیس سالہ رخسانہ بیگم کے علاوہ بارکنگ کے سینتالیس سالہ خالد بقاء شامل ہیں۔

ان پانچوں افراد کو جمعرات کو ویسٹ منسٹر میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان میں سے چار ملزمان کو رواں ماہ کے اوائل میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کے ایک آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا جبکہ خالد بقاء کو بدھ کو گرفتار کیا گیا۔

رچرڈ ڈارٹ، عمران محمود اور جہانگیر عالم پر الزام ہے کہ انہوں نے پچیس جولائی دو ہزار دس سے چھ جولائی دو ہزار بارہ کے درمیان دہشتگردی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا یا کسی اور فرد کی اس سلسلے میں مدد کی اور وہ اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی تیاریوں کا حصہ بنے۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ’دہشتگردی کی تربیت‘ حاصل کرنے کے لیے پاکستان یا کسی اور ملک کا سفر کیا اور ان معلومات کو عام کیا کہ کہ کیسے پاکستان جا کر دہشتگردی کی تربیت حاصل کی جا سکتی ہے۔

تین ملزمان پر دہشتگردی ایکٹ دو ہزار چھ کے سیکشن پانچ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

ان کے علاوہ رخسانہ بیگم پر ایک ایسی دستاویز رکھنے کا الزام ہے جسے کوئی دہشتگرد استعمال کر سکتا تھا جبکہ خالد بقاء پر دہشتگردی سے متعلق مواد رکھنے کے تین اور اس مواد کی تقسیم کا ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ ان کے قبضے سے ایسی سی ڈیز برآمد ہوئی جن میں جہاد کی مدد اور اس میں حصہ لینے کے انتالیس طریقوں پر مبنی دستاویزات موجود تھیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس سے القاعدہ کے انگریزی جریدے انسپائر کی کچھ کاپیاں بھی ملی تھیں۔

اسی بارے میں