مصر کے جنرل عمر سلیمان انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے دورِ اقتدار میں انٹیلیجنس کے سربراہ عمر سلیمان کا امریکہ میں انتقال ہو گیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مِنا کے مطابق جنرل سلیمان کا انتقال جمعرات کی صبح ہوا۔

سابق صدر حسنی مبارک نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں جنرل سلیمان کو نائب صدر تعینات کیا تھا۔

اس سال مصر میں ہوئے صدارتی انتخابات میں جنرل سلیمان نے حصہ لینے کی کوشش کی لیکن ان کو تکنیکی وجوہات پر نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

جنرل سلیمان کے اسسٹنٹ حسین کمال نے کہا کہ جنرل سلیمان کی موت غیر متوقع تھی۔ ’وہ کلیولینڈ میں بالکل ٹھیک تھے اور میڈیکل ٹیسٹ کراتے ہوئے ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔‘

حسین کمال نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ جسدِ خاکی کو مصر میں تدفین کے لیے لے جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

جنرل سلیمان کی صدارتی مہم چلانے والی ٹیم کے ایک کارکن ریم ممدوح نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ جنرل سلیمان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی۔ ’حال ہی میں ان کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ امریکہ چلے گئے جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ تھے۔‘

جنرل سلیمان مصری جنرل ایٹیلیجنس سروسز کی اٹھارہ سال سربراہی کی۔ انتیس جنوری دو ہزار گیارہ کو وہ مصر کے پہلے نائب صدر مقرر ہوئے۔ ان کی تقرری سے چار روز قبل ہی حکومت کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

اس تقرری کے دو ہفتے بعد ہی انہوں نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا کہ صدر حسنی مبارک اپنے عہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ اس اعلان کے بعد قاہرہ کے تحریر سکوائر میں حکومت مخالفین نے جشن منایا۔

حسنی مبارک کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے نااہل ہونے کے بعد وہ مصر سے ابو ظہبی منتقل ہو گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جون لین نے بتایا کہ حسنی مبارک کے دورِ اقتدار میں جنرل سلیمان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انٹیلیجنس کے سربراہ ہونے کے ناطے انہوں نے مصر کو پولیس ریاست میں تبدیل کیا اور اس طرح حسنی مبارک نے ملک پر اپنی گرفت قائم رکھی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنرل سلیمان سے حسنی مبارک نے دیگر امور پر بھی مشاورت کی جیسے کہ مشکل ایشوز پر اسرائیل، فلسطین اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات۔

اسی بارے میں