ڈرون حملے، امریکی شہریوں کی ہلاکت پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی ریاست نیو میکسیکو میں پیدا ہونے والے انور اولاکی یمن میں القاعدہ کے کلیدی رکن تھے

یمن میں ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے تین امریکی شہریوں کے اہل خانہ نے امریکی محکمۂ دفاع اور خفیہ ادارے سی آئی اے کے اعلی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا ہے۔

لواحقین کا موقف ہے کہ امریکی شہریوں کی ہلاکت غیر آئینی اقدام ہے۔

گزشتہ برس ستمبر اور اکتوبر میں ہونے والے اس امریکی ڈرون حملوں میں مذہبی رہنما انور ال اولاکی اور سمیر خان اور ال اولاکی کے سولہ سالہ بیٹا عبدالرحمان ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے لواحقین نے امریکی سیکرٹری دفاع لیون پینٹا ،سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریس اور دو فوجی کمانڈروں پر ڈرون حملوں میں ان ہلاکتوں کی اجازت دینے کا الزام لگایا ہے۔

امریکی ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت پر حالیہ چند ہفتوں میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

امریکی ریاست نیو میکسیکو میں پیدا ہونے والے انور اولاکی یمن میں القاعدہ کے کلیدی رکن تھے جبکہ ان کے بیٹے عبدالرحمان ریاست کولوراڈو میں پیدا ہوئے تھے۔

ان کے علاوہ سمیر خان بھی امریکی شہری تھے اور وہ القاعدہ کے انگریزی زبان کے جریدے انسپائر سے وابستہ تھے۔

امریکی عہدیداروں کے خلاف یہ مقدمہ انور اولاکی کے والد ناصر الاولاکی اور سمیر خان کی والدہ سارہ خان نے کیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں امریکی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

انور ال اولاکی کے والد نے اپنے بیٹے کی ہلاکت سے قبل بھی امریکہ کی جانب سے انہیں ہلاک کرنے کی کوششیں بند کروانے کے لیے عدالتی حکم حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم یہ درخواست اس بنیاد پر رد کر دی گئی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے بدلے یہ درخواست نہیں دے سکتے۔

اس مقدمے میں لیون پنیٹا اور ڈیوڈ پیٹریس کے علاوہ امریکی خصوصی آپریشنز کے سربراہ ایڈمرل ولیم میکریون اور لیفٹیننٹ جنرل جوزف ووٹل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

آئینی حقوق کے امریکی سینٹر اور امریکن سول لبرٹی یونین نے مدعیان کو قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آئینی حقوق کے امریکی سینٹر سے وابستہ وکیل پاردیس کبریائی کا کہنا ہے کہ ’جب ایک سولہ سالہ امریکی لڑکے کو اس کی اپنی حکومت بغیر کسی وضاحت یا احتساب کے قتل کر دے تو یقین مانیے کچھ بہت غلط ہو رہا ہے‘۔

امریکی محکمۂ انصاف کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ انہیں مدعیان کی درخواست مل گئی ہے اور وہ اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس مقدمے کو کئی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

امریکی حکومت سرکاری طور پر ایسے ڈرون حملوں کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کرتی تاہم رواں برس مارچ میں امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے ڈرون حملوں کی امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ’ممکنہ طور پر کسی ایسی غیر ملکی تنظیم کے اہم رہنما کے خلاف کسی دوسرے ملک میں طاقت کا استعمال کر سکتا ہے جو امریکہ کے خلاف جنگ کر رہی ہے اور چاہے وہ فرد امریکی شہری ہی کیوں نہ ہو‘۔

امریکہ کا محکمۂ انصاف جو کہ اس معاملے میں وکیلِ صفائی کا کردار ادا کرے گا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس مقدمے میں جو ثبوت درکار ہیں ان کا سامنے لایا جانا ملکی سلامتی کے رازوں کو افشاء کرنے کے مترادف ہوگا۔

اسی بارے میں