’شام پر صدر الاسد کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تین جرنیلوں کی ہلاکت کو شامی صدر کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں بم حملے میں دفاعی امور سے متعلق تین اعلیٰ شخصیات کی ہلاکت اس بات کی غماز ہے کہ ملک پر صدر بشار الاسد کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان دمشق میں نیشنل سکیورٹی ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے دھماکے میں وزیر دفاع جنرل داؤد راجحہ، نائب وزیر دفاع اور صدر الاسد کے برادرِ نسبتی جنرل آصف شوکت اور صدر کی کرائسز ٹیم کے سربراہ جنرل حسن ترکمانی کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

باغی گروپ فری سیرئن آرمی کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکے سے ایک دن قبل نصب کیا گیا تھا اور اب حکومت کا فوری طور پر جانا یقینی ہے۔

ادھر شامی فوج نے ملک کو ’قاتل اور مجرم گروپوں سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے‘۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس واقعے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ صدر الاسد کنٹرول کھو رہے ہیں۔ ہمارے تمام عالمی اتحادیوں کو آگے بڑھ کر مشترکہ طور پر اقتدار کی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے‘۔

بم دھماکے میں تین فوجی جرنیلوں کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت دمشق میں جھڑپوں کا سلسلہ ساری رات جاری رہا ہے۔ شامی حکومت اور اس کے مخالفین کی جانب سے اس لڑائی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں توپخانے اور ہیلی کاپٹرز نے بمباری کی ہے اور یہ اب تک دمشق میں ہونے والی سب سے شدید بمباری تھی۔ مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شامی فوج کے مزید ٹینک دمشق کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔

بدھ کو ہونے والے دھماکے سے جڑے حالات کے بارے میں اب بھی صورتحال واضح نہیں ہو سکی ہے اور تاحال جائے حادثہ کی کوئی ویڈیو یا تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔

ابتدائی طور پر اسے ایک خودکش دھماکہ کہا گیا جبکہ اب باغی گروپ اسے نصب شدہ بم قرار دے رہے ہیں۔ بی بی سی کی لینا سنجاب کے مطابق جس عمارت میں یہ دھماکہ ہوا وہاں کی کسی کھڑکی کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا دکھائی دے رہا۔

لبنان میں عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہلاک شدگان ہماری یادوں میں رہیں گے اور ہم شامی قیادت اور فوج سے تعزیت کرتے ہیں‘۔

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے اس دھماکے کو صدر الاسد کے لیے ’بڑا دھچکا‘ قرار دیا ہے جبکہ شام کی حکومت کے حامی روس کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک شام میں صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے اپوزیشن کو بھڑکا رہے ہیں۔

اس حملے کی وجہ سے ہی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام پر سخت پابندیوں کی قرارداد پر ووٹنگ جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے اور کہا ہے کہ شام میں تشدد بند کرانے کے لیے متحد ہو کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وقت نکلا جا رہا ہے اور شام کے عوام حد سے زیادہ مصیبتیں اٹھا چکے ہیں۔ یہ خونریزی اب بند ہونی چاہیے‘۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد نہ صرف اس مدت میں اضافہ کرے گی بلکہ شام کے لیے عالمی ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات میں شامل کرے گی جس کے نتیجے میں شام میں طاقت کا استعمال بھی ممکن ہو سکے گا۔

صدر بشار الاسد کا حامی روس سخت اقدامات کے خلاف ہے۔ بدھ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت میں دونوں رہنما شام میں خونریزی کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل پر متفق نھیں ہو سکے تھے۔

اسی بارے میں