عربی میں پوسٹر، عربوں کے لیے ہی مبہم

عربی زبان میں تیار کیا گیا سیکورٹی پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پوسٹر بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ وہ صحیح پوسٹر جلد ہی شائع کرے گی

لندن میں منعقد ہونے والے اولمپکس کھیلوں سے پہلے مختلف زبانوں میں تیار کیے گئے سکیورٹی پوسٹرز میں عربی زبان کا پوسٹر ایسا ہے جو عربی جاننے والوں کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا۔

اس اشتہار کو بنانے والی ٹرین کمپنی کو اس کے لیے تنقید کا سامنا ہے۔

فرسٹ کیپٹل کنیکٹ نامی کمپنی نے انگریزی اور دیگر سات زبانوں میں تیار کیے گئے ان پوسٹرز کو تیرہ ریلوے سٹیشنوں کو بھیجا تھا تاکہ انہیں اولمپکس کھیلوں سے پہلے وہاں لگایا جاسکے۔

لیکن عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کونسل کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر ’ایک مذاق ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ پوسٹر میں عربی کو جس طرح سے لکھا گیا ہے اس میں عربی کے الفاظ کو جوڑا نہیں گیا ہے۔

وہیں پوسٹر بنانے والی کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات کو مدد کرنے کی نیت سے بنایا گیا ہے۔

اولمپکس کھیلوں کے دوران لوگوں کو یہ وارننگ دینے والا پوسٹر کہ وہ اپنے سامان کو لاوارث نہ چھوڑیں کئی سٹیشنوں پر لگایا گیا ہے۔ ان میں کنگز کراس، سٹی ٹیمز لنک اور فیرنگڈن ریلوے سٹیشن شامل ہیں۔

عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کونسل کے ڈائریکٹر کرس ڈوئل کا کہنا ہے ’یہ بہت خراب پوسٹر ہے۔ اگر اس کو درست نہیں کیا گیا تو بہت سارے عربی زبان جاننے والے کہیں گے یہ کیا مذاق ہے‘۔

فرسٹ کیپٹل کنیکٹ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس پوسٹر کا انگریزی زبان سے عربی میں ترجمہ کیا گیا ہے اور ترجمہ کرنے کا کام ایک پروفیسر نے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پوسٹر بناتے وقت ہمارے سپلائر نے غلط فونٹ کا استعمال کیا جس سے پوسٹر کی تحریر بے معنی ہوگئی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ کمپنی جلد ہی ان پوسٹرز کو دوبارہ صحیح تحریر میں شائع کرے گی۔

اسی بارے میں