شام: باغیوں کا سرحدی چوکیوں پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اطلاعات کے مطابق شام کے باغی فوجیوں نے ترکی اور عراق کی سرحد پر شامی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایک عراقی اعلیٰ اہلکار نےکے مطابق شامی باغیوں نے مشرقی سرحد پر قائم تمام چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ایک وقت پر وہ ترکی کے ساتھ سرحد پر بھی قائم دو چوکیوں پر قابض ہو گئے تھے۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق باغیوں نے دیکھا ہو گا کہ شامی سکیورٹی فورسز دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے خلاف مصروف ہے اور یہ ایک اچھا موقع ہے کہ سرحدی چوکیوں پر قبضہ کیا جائے۔

باغیوں کا دعویٰ ہے کہ عراق کے ساتھ سرحد پر مرکزی چوکی ابو کمال پر سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد باغیوں نے اس چوکی پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایک عراقی وزیر نے کہا کہ ’آزاد شامی فوج‘ نہ عراق اور شام کی سرحد پر تمام چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق ایک چوکی پر لڑائی میں بیس شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔

ترکی کے ساتھ سرحد پر موجود دو چوکیوں پر بھی باغیوں نے قبضہ کر لیا۔ اس قبضے کے بعد ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں باغی شام کے صدر بشار الاسد کی تصویر توڑ رہے ہیں۔

تاہم اطلاعات کے مطابق ان چوکیوں پر باغیوں نے کچھ دیر ہی قبضہ برقرار رکھا اور بعد میں خود چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

دمشق میں شام کی فوج نے باغیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جبکہ ملک کے صدر بشار الاسد نے بدھ کو اپنے تین قریبی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پہلی بار منظر عام پر آتے ہوئے نئے شامی وزیر دفاع سے حلف لیا۔

دریں اثناء چین اور روس نے شام پر مزید پابندیوں کے لیے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔ قرارداد کا مقصد شامی حکومت کی طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنے پر اس کےخلاف پابندیاں لگانا تھا۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز شام کے کئی علاقوں میں صدر بشار الاسد کی حکومت اور اُس کے مخالفین کے درمیان لڑائی ہوئی۔

حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں ہی نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے جاری تنازع کے دوران سب سے زیادہ خونریز لڑائی تھی جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری فورسز نے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں ستِ زینب نامی علاقے میں ایک جنازے کے موقع پر حملہ کیا جس میں توپوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ اِس حملے میں ساٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں