نیٹو سپلائی اور افغان طلبا ءکا مستقبل

افغان طالب علم
Image caption نئے تعلیمی سال کے لئے کتابوں کی فراہمی بھی ممکن نہیں ہوئی

حکومت پاکستان کی جانب سے نیٹو کی سپلائی کی بحالی کے اعلان کے باوجود کراچی میں پورٹ قاسم پر پھنسی ہوئی پینتالیس لاکھ درسی کتابیں افغانستان نہیں بھیجی جا سکیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان نیٹو کی رسد کی بحالی پر اتفاق ہوگیا ہے مگر ضابطے کی کارروائی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سپلائی شروع نہیں ہوسکی۔

افغان وزرات تعلیم کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ ترسیل رکے رہنے کی وجہ سے افغانستان میں نئے تعلیمی سال کے لئے کتابوں کی فراہمی بھی ممکن نہیں ہوئی۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے افغانستان میں ستر لاکھ درسی کتابیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ کتابیں دبئی میں چھپوائی گئی تھیں۔ تقریباً پچیس لاکھ کتابیں گزشتہ نومبر میں سپلائی بند ہونے سے قبل افغانستان پہنچی تھیں، جبکہ باقی پینتالیس لاکھ کتابیں کراچی کی بندرگاہ پر پڑی ہوئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کتب ثانوی اور اعلیٰ ثانوی کلاسوں کے طلباء وطالبات کو فراہم کی جانی تھیں جو ناممکن ہوگیا۔

افغان وزارت تعلیم گزشتہ آٹھ ماہ سے کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے اور اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ذریعے ان کتابوں کو افغانستان منگوانے کے لئے کوشاں ہے لیکن یہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے تین جولائی کو نیٹو سپلائی بحال کرنے کے فیصلے کے بعد افغان حکام کو توقع ہے کہ نصابی کتابیں جلد کابل پہنچ جائینگی۔

افغان وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ نصابی کتابوں کی عدم دستیابی اور کمی کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

کتابوں کی عدم دستیابی پر افغان وزارت تعلیم پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ افغان وزارت تعلیم کے ترجمان امان اللہ ایمان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت طے ہوچکی ہے اورانہوں نے کتابوں کو بندرگاہ سے نکالنے اور افغانستان بھجوانے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تاخیر کی وجہ شِپنگ کمپنی کی جانب سے کاغذی کارروائی مکمل نہ ہونا بتائی جارہی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان وزرات تعلیم مسئلے کے حل کے لئے کابل میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔

اسی بارے میں