رکن پارلیمان کو ’فحاشی‘ کی سزا

مصری پارلیمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے بھی ’نور‘ پارٹی کو اپنے رکن پارلیمان کی وجہ سے معافی مانگنا پڑی تھی جنہوں نے اپنے ناک کی پلاسٹک سرجری کروانے کے بارے میں بظاہر جھوٹ بولا تھا۔

مصر میں ایک مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان کو عدالت سے ’فحاشی‘ کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق رکن پارلیمان کار میں ایک عورت کے ساتھ ’فحش‘ حرکات کر رہے تھے۔ رکن پارلیمان کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی۔

رکن پارلیمان علی وینس کو عورت کے ساتھ ’نامناسب‘ حرکات پر ایک سال اور پولیس اہلکار کو گالیاں دینے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔واقعہ میں ملوث عوت کو بھی چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

علی وینس ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھتیجی کے ساتھ جا رہے تھے کہ اس کی طبیت خراب ہو گئی اور انہیں گاڑی کنارے پر کھڑی کرنا پڑی۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کے علی وینس قاہرہ شہر سے باہر زرعی علاقے میں ایک سڑک کے کنارے اپنی کار میں ایک برقعہ پوش طالبہ کے ساتھ جو ان کی گود میں بیٹھی تھی۔ پولیس نے کہا کہ علی وینس عورت کے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔

پولیس نے کہا کہ جب انہوں نے کار کی کھڑکی کھٹکھٹائی اور علی وینس سے ان کا لائسنس طلب کیا تو انہوں نے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ فیصلے کے وقت علی وینس عدالت میں حاضر نہیں تھے اور ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ان کے ساتھ مقدمے میں شریک خاتون ایک ماہ سے قید میں ہیں اور انہیں اپیل کا حق ہے۔

علی وینس سلفی جماعت ’نور‘ کی طرف سے اسی برس رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔ تاہم جون میں ملک کی آئینی عدالت نے پارلیمان کو معطل کر دیا تھا۔

اس سے پہلے بھی ’نور‘ پارٹی کو اپنے رکن پارلیمان کی وجہ سے معافی مانگنا پڑی تھی جنہوں نے اپنی ناک کی پلاسٹک سرجری کروانے کے بارے میں بظاہر جھوٹ بولا تھا۔

اسی بارے میں