فوکوشیما تابکاری چھپائے جانے کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تحقیقات کرے گی جن کے مطابق فوکوشیما ڈائچی جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے عملے کو وہاں تابکاری کے اخراج کو چپھانے کو کہا گیا۔

جوہری پلانٹ کے ایک سب کانٹریکٹر نے اعتراف کیا کہ اس کے ایک افسر نے وہاں کام کرنے والے اہلکاروں سے کہا کہ وہ تابکاری کا تعین کرنے والے آلات کو ڈھک دیں کیونکہ بقول اس طرح بہت جلد تابکاری قانونی حد تک پہنچ جائے گی۔

جاپان میں فوکو شیما جوہری پلانٹ مارچ دو ہزار گیارہ میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے شدید متاثر ہوا تھا۔

اس پلانٹ کو ٹھنڈا رکھنے والے آلات نے کام کرنا بند کر دیا تھا اور یہاں آلات پگھلنے لگے تھے جس کے نتیجے میں پلانٹ میں تابکاری کا اخراج شروع ہو گیا تھا۔ حادثے کے بعد علاقے سے لاکھوں مکینوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

گذشتہ برس نومبر سے رواں برس مارچ تک ایک گروپ ’بِلڈ اپ‘ کے اہلکار فوکوشیما میں کام کرتے رہے تاکہ یہاں موجود سہولیات کو بحال کیا جا سکے۔

دسمبر میں بلڈ اپ کے ہی ایک اعلیٰ افسر نے اپنے اہلکاروں سے کہا کہ وہ تابکاری کی پیمائش کرنے والے آلات ڈوسی میٹرز کو ڈھانپ دیں اور یہ افراد وہاں تابکاری میں کام کرتے رہے۔

بصورتِ دیگر اس پلانٹ پر جوہری تابکاری کے اخراج کی قانونی حد بہت جلد پوری ہو جاتی جو سال بھر کے لیے مقرر کی گئی ہے جس کے بعد انہیں وہاں کام بند کرنا پڑتا۔

’بِلڈ اپ‘ نامی کمپنی کے صدر تکاشی واڈا نے جاپانی میڈیا کو بتایا کے نو ملازمین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں جاپان کے ایک پارلیمانی پینل نے کہا تھا کہ فوکو شیما کا سانحہ انسانی غفلت کا نتیجہ تھا۔

فوکو شیما حادثے کے بعد جاپان میں تمام جوہری پلانٹس کو بند کر دیا گیا تھا تاہم اب ’اوہی‘ نامی قصبے میں قائم پلانٹ کو جزوی طور پر کھولا گیا ہے۔

اسی بارے میں