رضوان فردوس کا اقبال جرم، سترہ سال قید

رضوان فردوس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری وکلاء کے مطابق رضوان فردوس سنہ دوہزار دس سے جہاز کا منصوبہ بنارہے تھے

امریکہ میں القاعدہ کے ایک امریکی حمایتی رضوان فردوس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد سے لدے ہوئے ریموٹ کنٹرول طیاروں سے واشنگٹن، پینٹاگون اور کیپیٹل ہل پر بم حملے کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے۔

چھبیس سالہ امریکی شہری رضوان فردوس کو گزشتہ ستمبر ایک ’سٹنگ آپریشن‘ یعنی خفیہ آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

سرکاری اور دفاعی وکلاء نے رضوان فردوس کو سترہ برس کی جیل کی سزا کی تجویز پر اتفاق کیا۔

سرکاری وکلاء کے مطابق رضوان سنہ 2010 سے ’جہاد‘ کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

رضوان فردوس نے اپنے اوپر لگے چھ الزامات میں سے دو کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ القاعدہ کو دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے کی کوشش کررہے تھے اور بم حملوں میں سرکاری عمارتوں کو تباہ کرنے کی سازش کررہے تھے۔

رضوان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تحت ان پر لگے چھ الزامات میں سے چار کو واپس لے لیا گیا۔

رضوان نے کہا کہ وہ سترہ برس کی قید کی سزا کاٹنے کو تیار ہیں۔ اگر ان پر سارے چھ الزامات ثابت ہوجاتے یا وہ ان کا اعتراف کرلیتے تو انہیں پینتیس برس کی سزا ہوتی۔

اطلاعات کے مطابق فردوس کو جس وقت سزا سنائی گئی اس وقت ان کے خاندان کے لوگ وہاں موجود تھے جن کو اس فیصلے پر نہایت افسوس ہوا۔

رضوان فردوس کو بوسٹن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر القاعدہ کو مواد فراہم کرنے کی کوشش اور امریکی فوجیوں پر حملوں کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔

حکام کے مطابق حملے کے اس منصوبے کے تحت ان اہداف پر دھماکہ خیز مواد سے لدے ہوئے ریموٹ کنٹرول طیاروں سے حملہ کیا جانا تھا۔

اسی بارے میں