بیجنگ میں ریکارڈ بارشیں، سینتیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ CNS
Image caption بیجنگ کی شہری حکومت کی ویب سائٹ پر ’بڑے پیمانے پر طوفان اور مذید شدید بارشوں کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔‘

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پچھلے ساٹھ سال کے دوران ہونے والی شدید ترین بارش کے نتیجے میں سینتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ ہلاکتیں چھتیں گرنے، آسمانی بجلی گرنے اور بجلی کےگری ہوئے تاروں سے کرنٹ لگنے کی وجہ سے ہوئیں۔

سنیچر کی دوپہر شروع ہونے والی موسلادھار بارش رات گئے تک جاری رہی جس کی وجہ سے کئی مرکزی شاہراہیں زیرآب آگئیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق صرف بیجنگ کے ایک علاقے فینگ شینگ میں چار سو ساٹھ ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ دارالحکومت میں مجموعی طور پر اوسطً ایک سو ستر ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ان بارشوں کی وجہ سے ساڑھے چودہ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ منتقل کیے جانے والے افراد میں سے بیشتر کا تعلق شہر کے مضافاتی علاقوں سے تھا۔

بیجنگ کی شہری حکومت کی ویب سائٹ پر ’بڑے پیمانے پر طوفان اور مزید شدید بارشوں کا امکان‘ ظاہر کیا گیا ہے۔

بارش کی وجہ سے شہر کے مرکزی ہوائی اڈے پر پانچ سو پروازیں منسوخ کر دی گئیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہوائی اڈے پر محصور ہو کر رہ گئے۔

بیجنگ میں مقیم ایک برطانوی طالب علم ٹام سمتھ نےبتایا کہ بارش اتنی شدید تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ آپ ’ایک آبشار کے نیچے کھڑے ہیں۔تمام گٹر پانی کی نیچے غائب ہو چکے تھے اور یہ کافی خطرناک تھا کیونکہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ گٹر کا منہ کہاں ہے۔‘

بیجنگ کے علاوہ چین کے شمالی صوبے شانژی میں چار افراد تب ہلاک ہو گئے جب ان کا ٹرک سیلاب کے ریلے میں بہہ کر دریا میں جا گرا۔ اس کے علاوہ مزید چھ افراد سیچوآن صوبے میں تودہ گرنے سے ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں