ناروے: ہلاکتوں کی پہلی برسی، دعائیہ تقریبات

تصویر کے کاپی رائٹ r
Image caption ان حملوں میں دو سو بیالیس افراد زخمی بھی ہو گئے تھے

ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند انرش بہرنگ بریوک کے ہاتھوں ستتر افراد کی ہلاکت کے واقعے کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔

اتوار کو پہلی برسی کے موقع پر ملک بھر کے گرجا گھروں میں خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

اوسلو کے شمال میں جزیرے اوٹویا میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہو گی اور توقع ہے کہ ناروے کے وزیراعظم جینز سٹولن برگ بھی اس میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم اوسلو میں بم دھماکے کی جگہ پر پھولوں کا گلدستہ رکھیں گے اور اس کے بعد جزیرہ اوٹویا میں لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں سے خطاب کریں گے اور ٹھیک مقامی وقت کے مطابق آٹھ بن کر پینالیس منٹ پر اس وقت جائے وقوعہ پر گلدستہ رکھیں گے جب وہاں سے حملہ آور کو گرفتار کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال اس جریزے پر حکمران جماعت لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں فائرنگ کے نتیجے میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔

شام میں جزیرے پر ایک دعائیہ کنسرٹ ہو گا جس میں زیادہ تر ملکی فنکار حصہ لیں گے۔

دوسری طرف اوسلو میں ہونے والے بم دھماکے کے ایک سال بعد بھی زیادہ تر متاثرہ عمارتوں کی تعمیر نو مکمل نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انرش بہونگ بریوک کے خلاف کیس کا فیصلہ آئندہ ماہ اگست میں سنایا جائے گا

وزیراعظم اور وزارتِ صحت کے دفتر کی عمارت اب بھی پلاسٹک سے ڈھکی ہوئی ہے۔

ان حملوں کے ملزم انرش بہرنگ بریوک نے عدالت میں دیے گئے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے کوئی ’دہشت گردی‘ نہیں کی اور انہوں نے جو کیا وہ اسلام اور کثیر الثقافت سوچ کے خلاف ایک صليبي جنگ کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹا وحشیانہ فعل ایک بڑے وحشیانہ فعل سے بچاؤ کے لیے تھا۔

حملہ آور انرش بہونگ بریوک کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور فیصلہ آئندہ ماہ چوبیس اگست کو سنایا جائے گا۔

عدالت اس مقدمے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا بریوک ذہنی طور پر تندرست ہیں یا نہیں تاہم مقدمے کی سماعت کے موقع پر اس مقدمے میں بریوک کہہ چکے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔

اسی بارے میں