شام: دمشق اور حلب میں شدید جھڑپیں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری ٹی وی پر دارالحکومت دمشق میں تباہی کے مناظر دکھائے گئے ہیں

شام کے دو بڑے شہروں حلب اور دارالحکومت دمشق میں باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں اور فوج باغیوں کے زیرِ تسلط علاقے واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

شام میں فوج نے دارالحکومت دمشق کے ضلع باریز میں باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا ہے جس میں اسے ہیلی کاپٹرز کی مدد حاصل ہے۔

حزبِ مخالف کے کارکنوں اور علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار اور ٹینک شہر کی سڑکوں میں داخل ہو چکےہیں جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے ایک اور علاقے المزہ میں بھی فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دمشق میں تباہی کے مناظر اور بڑے پیمانے پر لاشوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں لڑائی میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی لاشیں بتایا گیا ہے۔

غالب خیال ہے کہ یہ کارروائی شامی فوج کے چوتھے ڈویژن نے کی ہے جس کی قیادت صدر بشارالاسد کے بھائی ماہر الاسد کے پاس ہے۔

حلب میں اتوار کو مسلسل تیسرے دن لڑائی جاری رہی جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایک عمارت ٹینکوں کی شدید گولہ باری کے نتیجے میں زمین بوس ہو گئی۔

دمشق سے بی بی سی کے جم میور کے مطابق حکومتی فوجیں باغیوں کو دمشق شہر سے بڑے منظم طریقے سے نکال باہر کرنے کا آپریشن شروع کر رہی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق حکومتی افواج نے دمشق شہر کی مرکز کے قریب واقع ایک علاقے اور شمال مشرق کی جانب ایک اور علاقے کا اختیار دوبارہ سنبھال لیا ہے۔ اب حکومتی افواج کا زور میزہ اور برزہ کے علاقے دوبارہ حاصل کرنے پر ہے۔

دمشق سے شہریوں نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان شہر کی مرکزی علاقے میں ایک خفیہ ایجنسی کے مرکزی دفتر کے آس پاس لڑائی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومتی فوجوں نے حلب اور ترکی کی سرحد کی درمیانی علاقوں پر بھی بمباری کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شام کے انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ سے اب تک شام میں انیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ صرف مئی کے مہینے میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہو ئے، جبکہ جون میں شامی حکومت کے مطابق چھ ہزار نو سو سے زائد لوگ مارے گئے جن میں کم سے کم تین ہزار سے زائد عام شہری اور ڈھائی ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تھے۔

شام میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ایک ایسے وقت شروع ہوئی ہیں جب ایک دن پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاقِ رائے سے شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن میں ایک ماہ کی توسیع کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومتی فوجیں باغیوں کو دمشق سے بڑے منظم طریقے سے نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کے مطابق شام میں اقوام متحدہ کا مبصر مشن ایک ماہ کے بعد ختم ہو جائے گا تاہم اس مشن میں مزید توسیع اس بات پر منحصر ہوگی کہ ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور سلامتی کونسل کی جانب سے تشدد کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کے منصوبے کی فریقین پابندی کریں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جمعہ کو مغربی طاقتوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ کی جانے والی تمام کوششیں بے اثر ہوں گی اور اس سے صرف اس ادارے کے اختیارات متاثر ہوں گے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو دمشق کے حلیف روس اور چین نے شام سے متعلق ایک قرارداد کو گزشتہ نو مہینوں میں تیسری دفعہ ویٹو کر دیا تھا۔

اسی بارے میں