چینی سرکاری کمپنی نیکسن کو خرید رہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چین کی طرف سے یہ کسی بیرونی کمپنی کو خریدنے کا سب سے بڑا سودا ہوگا

سمندروں سے تیل نکالنے والی چین کی سب سے بڑی کمپنی سی این او او سی، اپنی حریف کینیڈا کی نیکسن کمپنی کو پندرہ ارب دس کروڑ ڈالر میں خرید رہی ہے۔

سرکاری کمپنی سی این او او سی نے نیکسن کو ستائیس اعشاریہ پانچ ڈالر فی حصص کی پیشکش کی ہے۔ یہ قیمت جمعہ کو سٹاک مارکیٹ بند ہونے پر نیکسن کے حصص کی مالیت سے ساٹھ فیصد زیادہ ہے۔

نیکسن کے بورڈ نے اس فروخت کی منظوری دے دی ہے تاہم ابھی کینیڈا کی حکومت نے اس کی اجازت دینی ہے۔

سی این او او سی پہلے بھی نیکسن کے ساتھ کئی مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سودے کے بعد ان کے تیل کے ذخائر میں تیس فیصد اضافہ ہوگا۔

یہ تیسری بار ہے کہ ریاستی چینی کمپنی کینیڈا کی کسی کمپنی میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔اس سے پہلے وہ بارہ کروڑ ڈالر کے عوض ایم ای جی انرجی کے سولہ اعشاریہ سات فیصد حصص اور اوپٹی کینیڈا نامی کمپنی خرید چکی ہے۔

دوسری جانب اگر کینیڈا کی حکومت کو ایسا لگتا ہے کہ تینتیس کروڑ کینیڈین ڈالر سے زیادہ مالیت والا کوئی بین الاقوامی سودا ملکی مفاد میں نہیں تو وہ اسے روک سکتے ہیں۔

سنہ دو ہزار پانچ میں سی این او او سی کی طرف سے امریکی کمپنی انلوکل کو خریدنے کی کوشش سیاسی بنیادوں پر روک دی گئی تھی۔

سنہ دو ہزار دس میں کینیڈا کی حکومت نے برطانوی اور آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کو کھاد بنانے والی کمپنی پوٹیش کورپ کو انتالیس ارب ڈالر میں خریدنے سے روک دیا تھا۔

اسی بارے میں