عراق میں دھماکوں کی لہر، 107 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تھا جو کہ ممکنہ طور پر ان کارروائیوں کا مرکزی ہدف لگتے ہیں۔

عراق میں سال کے سب سے ہلاکت خیز دن میں کار بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک سو سات افراد ہلاک اور ایک سو چوالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد میں متعدد کار بم دھماکوں کے واقعات ہوئے جبکہ شیعہ اکثریت کے علاقے صدر شہر میں ایک حکومتی عمارت کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ساتھ تھا جو کہ ممکنہ طور پر ان کارروائیوں کا مرکزی ہدف لگتے ہیں۔ جیسا کہ صلاح الدین صوبے میں ایک حملے میں کئی فوجی ہلاک ہوئے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بغداد کے مضافات میں سنی اکثریت والا ایک علاقہ تاجی ہے جہاں کم از کم چوبیس افراد ہلاک ہوئے۔

دیگر متاثرہ علاقوں میں الضلوعیۃ، صلاح الدین، خان بنی سعد، السعدیہ، تز خرمتوہ اور دبیس کے علاقے شامل ہیں جبکہ شمالی شہر کرکوک میں بھی کم از کم سات کار بم دھماکے ہوئے۔

بی بی سی کے رامی روحایم نے بغداد سے اطلاع دی ہے کہ پولیس کی چوکیوں پر کار بم حملے کئے گئے اور فوجی اڈوں پر مارٹر گولے برسائے گئے جبکہ ایک پولیس افسر کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔

تاجی کے علاقے میں سلسلہ وار پانچ چھ دھماکوں کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے اور جب پولیس مدد کے لیے جائے وقوع پر پہنچی تو ایک اور دھماکہ ہوا جو کہ ایک اطلاع کے مطابق خودکش حملہ تھا جس میں دس پولیس افسران ہلاک ہوئے۔

تاجی کے ایک رہائشی علی حسین نے ان دھماکوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’ان لوگوں کا کیا قصور تھا۔ یہ لوگ اپنی روزی کمانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ یہ ایک غریبوں کی منڈی ہے جہاں لوگ خریداری کے لیے آئے ہوئے تھے جب یہ دھماکہ ہوا۔‘

یہ تیرہ جون کے بعد عراق میں ہلاکت خیز ترین دن تھا جس روز چوراسی افراد ہلاک ہوئے تھے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ جون کے مہینے میں مختلف واقعات میں دو سو سینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے جو کہ دسمبر میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے بدترین مہینہ تھا۔

اسی بارے میں