جنوبی سوڈان کی تین ارب ڈالر کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوڈانی صدر عمر البشیر اور ان کے ہم منصب سالوا کیر کے بیچ یہ ملاقات ایتھوپیہ کے دارالحکومت ادیسہ بابا میں ہوئی۔

جنوبی سوڈان نے علیحدگی کے باعث ہونے والے اقتصادی نقصان کے پیشِ نظر سوڈان کو تین ارب ڈالر بطور تلافی دینے کی پیشکش کی ہے۔

اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کو گزشتہ سال بٹوارے کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے کے لیے دو اگست کی حتمی تاریخ دے رکھی ہے اور اسی پس منظر میں ایتھوپیا میں مذاکرات جاری ہیں۔

جنوبی سوڈان نے اپنی تیل کی برآمدات کے لیے راہداری فیس بڑھانے اور سوڈان پر پانچ ارب ڈالر کے بقایاجات معاف کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔

سوڈان نے ابھی تک اس پیشکش پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

جنوبی سوڈان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پگن آمم کا کہنا تھا کہ یہ ان کی جانب سے حتمی پیشکش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے دی گئی مہلت میں نو روز باقی رہ گئے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ فریقین اتفاقِ رائے سے آگے بڑھیں۔

جنوبی سوڈان نے تقریباً ایک سال پہلے سوڈان کی ریاست سے آزادی حاصل کی تھی تاہم دونوں ممالک کے درمیان ابھی بھی بہت سے معاملات طے ہونا ہیں۔

ان تنازعات میں تیل کے ذخائر پر اختلافات، راہداری فیسوں اور قومی قرضوں کی تقسیم شامل ہیں۔

جنوبی سوڈان کی موجودہ پیشکش میں تین اعشاریہ دو ارب ڈالر بطور تلافی شامل ہیں جو کہ ان کی گزشتہ آفر سے ساٹھ کڑوڑ ڈالر زیادہ ہے۔

علیحدگی کی وجہ سے سوڈان کی تیل کی پیداوار پہلے کے مقابلے میں صرف پچیس فیصد رہ گئی ہے۔

ستاسٹھ صفحوں پر محیط اس تازہ ترین پیشکش کے مسودے میں سرحدی تنازعات کے حل کرنے کے لیے بھی تجاویز دیں گئی ہیں۔

ان تجاویز کے مطابق جب تک متنازع علاقوں کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا ادھر سے فوجیں ہٹا کر انتظامی نظام مشترکہ طور پر سنبھالنا چاہیے۔

اس سال اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کی وجہ سے جنگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔

سوڈانی دارالحکومت غرتوم سے بی بی سی کے جیمز کوپنیل کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو سوڈان کا موقف رہا ہے، اس سے تو نہیں لگتا کہ یہ پیشکش منظور کی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ سوڈان راہداری فیسوں میں اضافہ تو قبول کر لے گا تاہم اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر عارضی بنیادوں پر بھی مشترکہ کنٹرول دینے کو وہ راضی نہیں لگتے۔

سوڈانی حکومت نے اس کی تردید کی ہے کہ ان پر جنوبی سوڈان کے بقایاجات واجب ہیں۔ جنوبی سوڈان کا کہنا ہے کہ یہ رقم آزادی کے وقت ضبط کیے گئے تیل کی ہے۔

سوڈان میں کئی دہائیوں پرانی خانہ جنگی کو ایک امن منصوبے کے تحت ختم کروایا گیا جس میں جنوبی سوڈان کو علیحدہ ریاست بنانا شامل تھا۔

اسی بارے میں