تاجکستان: چھڑپوں میں کم از کم بیالیس ہلاک

Image caption قومی سلامتی کی سٹیٹ کمیٹی کے علاقائی سربراہ عبدللونازارو کی ہلاکت کے بعد حکومت نے یہ کارروائی شروع کی ہے

ریاستی ٹی وی کے مطابق تاجکستان کے علاقے گورنو بداکغشان میں لڑائی کے دوران کم از کم بارہ فوجی اور تیس باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

سنیچر کے روز قومی سلامتی کی سٹیٹ کمیٹی کے علاقائی سربراہ جنرل عبدللونازارو کی ہلاکت کے بعد فوج نے مقامی رہنماء تولب یومبیکوو کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

کمیٹی کی جانب سے شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش جاری ہے کہ ان کی ہلاکت میں افغان شہری، طالبان، القاعدہ یا اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ملوث ہے۔

تاجک دارالحکومت دوشانبے کے ایک ہسپتال جہاں زخمیوں کو لے جایا گیا ہے، کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

صوبائی دارالحکومت غوروگ سے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا شہر اب میدانِ جنگ لگتا ہے۔

گورنو بداکغشان صوبے میں مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا ہے۔

عام لوگ اپنے مکانوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور گلیوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔

ہسپتال اہلکار نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک سو سے زیادہ فوجی اہلکار جبکہ اتنے ہی عام شہری تھے۔ زخمیوں کی تعداد انہوں نے ساٹھ کے قریب بتائی۔

ریاستی ٹی وی کا کہنا تھا کہ پولیس نے منگل کی رات چالیس افراد کو حراست میں لیا جن میں آٹھ افغان شامل ہیں۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تولب یومبیکوو کے خلاف طاقت کے استعمال کا فیصلہ ان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد کیا۔

یومبیکو نوے کی دہائی میں تاجکستان کی خانہ جنگی کے دوران حزبِ اختلاف کا حصہ تھے۔

بی بی سی کے عبدلجلیل عبداراسلو کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن تاجک حکومت کی جانب سے اس علاقے پر قابو پانے کی ایک اور کوشش ہے۔

اسی بارے میں