یورپ میں چربہ سازی کا بڑھتا مسئلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رومانیہ کے وزیراعظم پر بھی چربہ سازی کا الزام لگا

ان دنوں تصنیف کی چوری یا چربہ سازی اور علمی اصولوں میں بداعمالی کا معاملہ بھوت کے سائے کی طرح یورپ کے پیچھے پڑا ہے۔ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران کئی نمایاں سیاسی رہنماء مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔ تاہم عِلمی چربہ سازی کے انکشافات نے یورپی کی کئی قابل احترام یونیورسٹیوں کو بھی ہلا کر رکھا دیا ہے۔

ایک طویل عرصے سے بہت سارے یورپی ممالک خاص طور پر جرمنی کے خیال میں عِلمی چربہ سازی کے معاملے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

گزشتہ فروری میں جرمن وزیر دفاع کیرل تھووڈور زو گٹنگبرگ کے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں چربہ سازی کے بارے میں انکشاف ہوا۔

جب اخبارات نے اس معاملے کو اٹھایا تو انہوں نے تردید کی کہ انہوں نے کوئی غلط کام اور ان الزامات کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر انہوں نےحوالہ جات میں کوئی غلطیاں کی ہیں تو آئندہ شمارے میں ان کو درست کر لیں گے۔‘

دنوں کے اندر لوگوں کے ایک گروپ نے ویب سائٹ ویکی بنائی اور اس معاملے کو ’گوٹن پلاگ وکی‘ کہتے ہوئے ان پر یہ ثابت کیا کہ وہ غلط کام میں ملوث ہیں اور ان کو اس کے دو ہفتوں کے بعد مستعفی ہونا پڑا۔

لیکن یہ معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہوا، اس کے فوراً بعد ایک اور سینیئر سیاسی رہنما کی بیٹی اپنے مقالے میں چربہ سازی میں ملوث پائی اور اس گروپ نے’ ورونی پلاگ وکی‘ کے نام سے اس معاملے کو اٹھایا، اس کے بعد ایک اور مقالے میں چوری کا انکشاف ہوا اور یہ معاملہ یہیں نہیں رکا۔ابھی تک اس ویب سائٹ پر ستائیس کیسز موجود ہیں۔

اسی طرح سے یورپ کے دیگر ممالک میں بھی تصنیف چربہ سازی کے معاملات سامنے آئے۔ رومانیہ کے وزیرِ تعلیم ایک ہفتہ ہی دفتر میں رہنے کے بعد اکیڈمک پیپرز میں چربہ سازی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی دوران ایک مقبول سائنسی جریدے نے رومانیہ کے وزیراعظم پر الزام لگایا کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی میں چربہ سازی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی جبکہ ریسرچ ایتھکس کونسل یا اخلاقیات کے حوالے سے کام کرنے والی کونسل نے ان کی حمایت کی۔

لیکن رومانیہ کے دو اکیڈمک پینلز نے ان الزامات کو برقرار رکھا۔ اس میں سے ایک رومانیہ کی یونیورسٹی آف بوخارسٹ بھی شامل ہے۔ جس نے انہیں سال دو ہزار تین میں پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی تھی۔

ہنگری کے صدر پہلے ہی ڈاکٹریٹ ڈگری کھو چکے ہیں اور چربہ سازی پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے وزیر ثقافت کو ڈاکٹریٹ کے مقالے کے سولہ حصوں کو دیگر ذرائع سے کاپی یا نقل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بھی ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ڈاکٹریٹ کی ڈگری خاص طور پر جرمنی اور آسٹریا میں بہت قابل احترام سمجھی جاتی ہے اور ان ممالک میں رواج ہے کہ لوگوں کو تعلیمی اعزاز کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔

اگر ایسے چند مصنفین کے کوائف دیکھے جائیں جن پر چربہ سازی کا الزام ہے تو آپ کو حیرانی ہو گی کہ یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ وہ تحقیقی کام میں اپنا وقت صرف کر یں، کتب خانوں میں گھنٹوں بیٹھے رہیں اور اس کے بعد حاصل کردہ تمام معلومات کو تحریری شکل دیں اور اس کے ساتھ ایک نمایاں سیاستدان ہونے کے ناطے بے پناہ سیاسی مصروفیات کا جاری رہنا بھی ممکن ہو۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ چربہ سازی کا معاملہ جرمنی میں منصب معلمی کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔

جن لوگوں کے ذمہ طالب علموں کو سکھانا ہے وہ کاپی پیسٹ یا دوسروں کی تحریر چوری کر کے استعمال کرنے میں پکڑے گئے۔

گزشتہ ماہ یہ انکشاف ہوا کہ قانون کے طالب علموں کے لیے لکھی گئی کتاب کے ایک تہائی حصے میں چربہ سازی کی گئی تھی اور یہاں تک کہ ان کتابوں میں مقبول ویب سائٹ وکی پیڈیا سے بھی مواد چرایا گیا۔ یہاں تک اس کتاب میں چربہ سازی کے حوالے سے لکھے گئے ایک باب میں بھی چوری کی گی۔

اس انکشاف کے بعد کتاب کو شیلف سے فوری طور پر ہٹا لیا گیا اور مصنفین نے قصورواروں کو تلاش کرنے کا عزم کیا۔

امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اخلاقیات کے حوالے سے کونسلز ہوتی ہیں اور وہاں پر اخلاقی ضابط اخلاق کے حوالے سے وسیع پیمانے پر بحث ہوتی ہے۔

ان یونیورسٹیوں میں تصنیف کی چوری کو روکنے کے حوالے سے طریقہ کار موجود ہے، لیکن جرمنی میں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

چوری کو روکنے کے حوالے سے ایک خودساختہ کمپیوٹر سافٹ ویئر دستیاب ہے جو کسی حد تک چوری پکڑ لیتا ہے خاص طور پر بغیر کسی تبدیلی کے مواد کو کاپی یا جعل سازی کرنا۔

یہ پروگرام تمام چیزوں کی نشاندہی نہیں کر پاتے ہیں لیکن جرمن یونیورسٹیاں ان سافٹ ویئر کو خریدنے میں کافی سرگرم ہیں۔

جرمنی میں کئی دہائیوں سے اس طرح کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کو برداشت کرنے کا سلسلہ سست روی سے جاری ہے۔

یونیورسٹی آف کوٹبس کے اساتذہ اس بات پر شدید غصے میں ہیں کہ ایک پی ایچ ڈی کے مقالے میں چالیس فیصد تک مواد ملتا جلتا تھا اور باضابط طور پر اسے صرف تکنیکی خامیاں کہا گیا۔

لیکن اب لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور اگرچہ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرنا چاہیے لیکن چربہ سازی کے حوالے سے اب ہر یونیورسٹی میں بات ہو رہی ہے۔تعلیمی مواد میں چربہ سازی کے بارے میں بہتر آگاہی اور اصولی پریکٹس کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔

مقالے آن لائن دستیاب ہونے چاہیں اور ان تک سب کو رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ اس کی جانچ پڑتال کی جا سکے تاہم اس طرح کے اقدامات کے حوالے سے ابھی تک کوئی مالی وسائل مختص نہیں کیے گئے ہیں اس لیے یہ واضح نہیں کہ جرمن یونیورسٹیاں چربہ سازی کے بارے میں سنجیدہ ہو نگی یا اسی طرح معاملے کو خراب کرتی رہیں گی۔

شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف جرمنی میں نہیں ہے بلکہ دیگر یورپی ممالک ممکنہ طور پر تمام کو اس کے خلاف اقدمات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ یورپی یونیورسٹیوں سے دی جانے والی اعلیٰ ڈگریوں کو وہ ہی قدر حاصل ہو جس کی وہ مستحق ہیں۔

اسی بارے میں