شام: حلب میں لڑائی جاری، ’مزید فوج طلب‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شام میں باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت ترکی کی سرحد پر تعینات ہزاروں فوجیوں کو بھی منتقل کر کے حلب لا رہی ہے جہاں حکومتی فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔

باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ترکی کی سرحد پر جبل الزاویہ کی پوسٹ چھوڑنے والے فوجیوں کے قافلے پر حملے کیے ہیں۔

باغیوں کے کارکن نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ترکی کی سرحد پر شامی چوکی چھوڑ کر حلب کی جانے والی فوجیوں کے قافلے پر پیچھے سے حملہ کیا گیا ہے۔

فری سیریئن ارمی کے ترجمان کرنل عبدالجبار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت فوج کو حلب میں تعینات کر رہی ہے کیونکہ یہ ایک سٹریٹیجک شہر ہے۔

باغیوں نے ترکی کے ساتھ سرحد پر قائم شامی چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب ترکی نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی کے خدشات کے باعث شام کے ساتھ سرحد بند کر دی ہے۔

واضح رہے کہ منگل کو جنگی طیاروں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں باغیوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا تھا۔

حلب کے نواح میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق جنگی طیاروں نے شہر کے مشرقی حصے پر بمباری کی۔

نامہ نگار ایئن پیل کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ حلب میں حکومتی افواج نے جنگی طیارے استعمال کیے اور یہ شہر میں جاری لڑائی میں ایک اہم قدم ہے۔

اس سے قبل فوجی کارروائی میں جنگی ہیلی کاپٹروں کے استعمال کی اطلاعات بھی ملی تھیں۔

شامی صدر بشارالاسد کے مخالف باغیوں نے حلب میں موجود شامی افواج پر اختتامِ ہفتہ پر بڑا حملہ کیا تھا جس کا مقصد شہر کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ اس حملے کے دوران شہر سے شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

حکومت مخالف ذرائع کے مطابق منگل کو شام کے مختلف مقامات پر جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں میں کم از کم تینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے نو حلب میں جیل میں ہونے والی بغاوت کے دوران مارے گئے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومت نے دارالحکومت دمشق کے ان علاقوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے جو گزشتہ ہفتے باغیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر دمشق کے جنوبی ضلع کے نشر کیے جانے والے مناظر میں ہلاک کیے گئے’دہشت گردوں‘ کی ویڈیو دکھائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ویڈیو میں شامی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو گھر گھر جا کر باغی جنگجوؤں کو تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں