امریکہ:مزید چوبیس لاکھ بچے غربت سے متاثر

امریکہ میں ایک غریب  کی تصویر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں غریب بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری آئی ہے

امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی معاشی بحران کے سبب امریکہ میں غربت کی سطح میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امریکہ میں غربت گزشتہ چالیس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ سے سنہ دو ہزار دس کے درمیان مزید چوبیس لاکھ بچے غربت کا شکار ہوئے ہیں اور امریکہ میں مجموعی طور پر ایک کروڑ ستاون لاکہ بچے غربت سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اینی ای کاسی فاؤنڈیشن کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ سے دو ہزار دس تک کے درمیان تقریباً پچیس لاکھ بچے غربت کا شکار ہوئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ میں معاشی بحران کے باعث غربت اور بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکہ کی کمزور پڑتی معیشت کے آنے والی نسل پر منفی اثرات پڑیں گے۔

تنظیم کے مطابق ’واشنگٹن سے سمت تقریباً ہر ریاست میں ان بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے والدین کے پاس مستقل روزگار نہیں ہے اور جن کے لیے مہنگائی کے سبب گھر چلانا مشکل ہے۔‘

حالانکہ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ میں تقریباً سبھی ریاستوں میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں بہتری آئی ہے لیکن مہنگائی کے سبب غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تنظيم کے چیف ایگزیکٹو پیٹرک میکارتھی نے صحافیوں کو بتایا ’سکولوں میں پہلے سے ہی غریب بچے خاص طور سے سیاح فام امریکی اور بھارتی نژاد امریکی بچے گورے امریکی بچوں کے مقابلے میں خود کو پیچھے محسوس کرتے ہیں۔‘

امریکی سرکار کے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ دو ہزار دس میں غربت کے شرح پندرہ اعشاریہ ایک فیصد تھی جو اب بڑھ کر پندرہ اعشاریہ سات فیصد کی شرح تک پہنچ گئی ہے۔

اسی بارے میں