’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے یوم انقلاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

بدھ کو ملک کے مشرقی صوبے گوانتانامو میں یوم انقلاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور کیوبا کے درمیان گزشتہ پانچ دہائیوں سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

اپنے خطاب میں کاسترو کا کہنا تھا کہ انہیں سفارتی ذرائع سے امریکہ سے تعلقات قائم کرنے کی پہلے بھی پیشکش ہو چکی ہے تاہم اب وہ امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ جمہوریت کی مشکلات اور انسانی حقوق جیسے مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم یہ بات چیت برابری کی سطح پر ہونی چاہیے کیونکہ ہم کسی کی کالونی نہیں ہیں۔

راؤل کاسترو نے کہا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک رہے گا اور یہاں لیبیا یا شام جیسی صورت حال پیدا نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کیوبا کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو یہ مقابلہ بیس بال یا پھر کسی دوسرے کھیل میں ہو سکتا ہے۔

کیوبا کے اندرورنی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں سماجی اور اقتصادی اصلاحات آہستہ آہستہ ختم کی جائیں گی۔

کیوبا کے پہلے نائب صدر جوز رومن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہوانا امریکہ کی بحری بیڑے کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اسی بارے میں