امریکی محکمہ انصاف میں بے ضابطگیاں

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption یہ تحقیقات تب شروع کیں گئیں جب سنہ دو ہزار دس میں محکمے کے ایک سابق ملازم یہ شکایات لے کر کانگرس کے ایک رکن کے پاس گئے

امریکہ میں ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ یعنی محکمہِ انصاف کے آٹھ اعلیٰ عہدیداروں نے غیر قانونی طریقوں سے اپنے رشتے داروں کو ملازمت دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سات اہلکاروں نے رشتہ داروں کی بھرتی سے متعلق وفاقی قانون جبکہ ایک نے وفاقی ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

محکمے کے انسپکٹر جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ دو ڈائریکٹروں نے ایک دوسرے کے بچوں کو نوکریاں دے رکھیں ہیں۔

آٹھ سال میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ محکمہِ انصاف میں ملازمتوں کے سلسلے میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں ہیں۔

یہ تحقیقات تب شروع کی گئیں جب سنہ دو ہزار دس میں محکمے کے ایک سابق ملازم یہ شکایات لے کر کانگرس کے ایک رکن کے پاس گئے۔

انسپکٹر جنرل کے زیرِ نگرانی ہونے والی تحقیقات میں بتایا گیا کہ ہیومن ریسورسز کی ایک اہلکار پامیلہ کیبل نے اپنی بیٹی کو مختلف عہدوں پر نوکری دلوانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہ ایک عہدے کی نوعیت بھی تبدیل کی تاکہ اسے ملازمت ملنے کا امکان بہتر ہو جائے۔

ان کی بیٹی کو سنہ دو ہزار نو میں ڈایریکٹر ایڈورڈ ہیملٹن کے دفتر میں نوکری دی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال ریٹائر ہونے والی پامیلہ کیبل نےتفتیشی ٹیم سے کئی بار جھوٹ بولا۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیومن ریسورسز کے ڈائریکٹر راڈنی مارغام نے ملازمت کے سلسلے میں ماضی کے دو سکینڈلز کے باوجود غیر ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا اور انہیں ان تعیناتیوں سے پہلے مکمل تفتیشات کرنی چاہیئے تھیں۔

اسی بارے میں