سپین میں بیروزگاری عروج پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ انیس سو ستر کی دہائی کے بعد سپین میں یہ بے روزگاری کی سب سے بڑی شرح ہے

سپین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً پانچ اعشاریہ سات ملین ہسپانوی باشندے روزگار کی تلاش میں ہیں۔

سپین میں بے روزگاری کی شرح سال کے اوائل میں چوبیس اعشاریہ چار فیصد تھی جو جون میں بڑھ کر چوبیس اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ سنہ انیس سو ستر کی دہائی کے بعد سپین میں یہ بے روزگاری کی سب سے بڑی شرح ہے۔ ستر کی دہائی میں آمر فرانسسکو فرانکو کے مرنے کے بعد سپین میں جمہوریت متعارف کرائی گئی تھی۔

دوسری جانب سپین کے تیسرے بڑے بینک نے بھی منافع میں اسی فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ اس کا منافع جنوری سے جون کے مہینوں میں ایک سو چھیاسٹھ ملین یوروز تک گر گیا ہے۔

سپین کے سب سے بڑے بینک سینٹینڈر بینک نے جمعرات کو اعلان کیا جنوری سے جون کے دوران ان کا منافع آدھا رہ گیا ہے۔

سپین کی معاشی حالت بہت خراب ہے اور اقتصادی ماہرین کے مطابق اس میں جلد بہتری کے امکانات کم ہیں۔

اسی بارے میں