حلب شہر پر شامی فوج کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام کی افواج نے حلب شہر کو باغیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے زمینی اور ہوائی حملہ شروع کر دیا ہے۔

حلب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار این پینل نے باغیوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں دیکھیں ہیں جس میں کئی باغی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

فری سریا آرمی سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں شامی فوج کے حملے کو پسا کر دیا ہے اور کئی ٹینکوں کو ناکارہ کر دیا ہے۔ فری سریا آرمی کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ادھر بین الاقوامی برادری نے شام کی حکومت پر ملک کے سب سے بڑے شہر حلب میں لڑائی بند کروانے کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔

حکومتی حامی اخبار ’الوطن‘ نے متنبہ کیا ہے کہ حلب میں اب تک کی’سب سے بڑی جنگ‘ شروع ہونے والی ہے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ حلب میں فوج کی کارروائیوں پر عالمی دنیا خاموش تماشائی جیسا کردار نہیں ادا کر سکتی۔

لندن میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد انہوں نے بین الاقوامی برادری سے ایپل کی کہ وہ شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

طیب اردگان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اپنے لوگوں کا قتل عام کر رہی ہے۔

اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انہوں نے طیب اردگان کے ساتھ شام کی صورت حال پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے شامی حکومت کی جانب سے حلب میں شروع کی جانے والی ممکنہ کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ حلب میں جاری لڑائی بند کرے۔ انہوں نے شامی حکومت سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے واضح بیان کا بھی مطالبہ کیا۔

بان کی مون نے لندن میں ایک بیان میں فریقین سے تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

دریں اثناء شامی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو اپنے لوگوں کے خلاف استعمال نہیں کرے گی۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نوی پلے نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں شہریوں کو اس لڑائی سے دور رکھیں۔

شام اور ترکی کی سرحد پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار وائیر ڈیویز کا کہنا ہے کہ الیپو میں صورت حال بہت خراب ہے۔

نامہ نگار کے مطابق شامی فوج حلب کے گرد حصار بنا رہی ہے۔

شام کے شہر فردوس میں موجود حکومت محالف کارکن رامے نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی فوج نے جمعہ کو ایک عمارت پر بمباری کر کے پندرہ افراد ہلاک کو ہلاک کر دیا۔

بی بی سی آزاد ذرائع سے رامے کے اس دعوی کی تصدیق نہیں کر سکی۔

دوسری جانب بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے حلب میں شدید لڑائی کی وجہ کچھ امدادی آپریشنز بند کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں