افغانستان:’چار سو ملین ڈالر ضائع ہو سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چند پراجیکٹ کی رفتار اتنی آہستہ ہے کہ مشکل ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء تک یہ مکمل ہو سکیں: رپورٹ

امریکی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس میں بدانتظامی کے باعث لاکھوں امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم ضائع ہونے کا ڈر ہے۔

امریکی کانگریس میں یہ رپورٹ افغانستان کی تعمیر نو کے سپیشل انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے پیش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پراجیکٹس کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور عملدرآمد کافی کمزور تھی۔ رپورٹ کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے سکیورٹی کرنے کے بعد کم سکیورٹی فراہم کے اخراجات میں اضافہ ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق چند پراجیکٹ کی رفتار اتنی آہستہ ہے کہ مشکل ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء تک یہ مکمل ہو سکیں۔ یاد رہے کہ امریکی فوج کا انخلاء دو ہزار چودہ کے آخر تک ہونا ہے۔

اس سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف 2011 میں بڑے پراجیکٹس کے لیے مختص کیے گئے امریکی حکومت کے چار سو ملین ڈالر ناقص منصوبہ بندی کے باعث ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ کنٹریکٹ پر دیے گئے تعمیراتی کاموں کا معیار اچھا نہیں تھا اور لاکھوں ڈالر سے تعمیر کیے گئے پولیس کے اڈے استعمال کے قابل نہیں تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان پولیس اڈوں میحں سے ایک زیرِ استعمال اس لیے نہیں ہے کہ اس اڈے کو پانی کی فراہمی ہی نہیں ہے۔

’ان اڈوں میں رستی ہوئی تیل کی پائپیں، ناقص گارڈ ٹاورز اور ناقص ہیٹنگ نظام ہیں۔‘

جان سوپکو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کو ابھی بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے جلد ہی اقدام لینے ہوں گے کیونکہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کانگریس صدر اوباما کی جانب سے افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے سو بلین ڈالر کے فنڈز کی منظوری دے دیتی ہے تو اتنی رقم امریکہ نے کبھی بھی کسی ملک کی تعمیرِ نو کے لیے نہیں دی ہے۔

انسپکٹر جنرل کے مطابق افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے مختص فنڈز پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ امریکی عوام کی رقم ضائع نہ ہو۔

رپورٹ میں افغانستان انفراسٹرکچر فنڈ کے منصوبوں پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ اس امریکی ایجنسی کے پانچ منصوبوں کو چھ سے پندرہ ماہ کی تاخیر کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ سوائے ایک توانائی کے منصوبے کے تمام منصوبوں میں تاخیر ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان انفراسٹرکچر فنڈ کو امریکی وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور یو ایس ایڈ مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں۔

اسی بارے میں