جنوبی وزیرستان میں فٹ بال بنانے کا مرکز

جنوبی وزیرستان میں پاکستانی حکومت نے مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور انھیں دہشت گردی اور شدد پسندی سے دور رکھنے کے لیے فٹ بال تیار کرنے کا مرکز قائم کیا ہے۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی کے حوالے سے ڈرون حملوں ، بم دھماکوں ، اور طالبان کی شدت پسند کارروائیوں کی خبریں تو ذرائع ابلاغ میں معمول سے آتی رہتی ہیں لیکن اس علاقے میں مثبت سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں جن کی کوریج کم ہی سامنے آتی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں اب بین الاقوامی معیار کی فٹ بال تیار کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے جس کے لیے مرکز قائم کر دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں میں فٹ بال کی پسندیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اب جنوبی وزیرستان ایجنسی میں نوجوانوں کے لیے فٹ بال بنانے کا ایک تربیتی مرکز قائم کیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو روز گار فراہم کرنے کے علاوہ شدت پسندی سے متاثرہ ان علاقوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

یہ مرکز جنوبی وزیرستان کے علاقے سپنکی کے ایک سکول میں قائم کیا گیا ہے جس کے لیے ٹرینرز یا تربیت دینے والے سٹاف کو سیالکوٹ سے بلایا گیا ہے۔

سپنکئی میں موجود بریگیڈیئر انوار نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی طور پر تین سو فٹ بال تیار کرنے کا سامان یہاں لایا گیا ہے اور صرف فٹ بال کی سلائی کا کام سکھایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق تربیت حاصل کرنے کے بعد یہ نوجوان بین الاقوامی معیار کی فٹ بال بھی یہاں تیار کر سکیں گے۔

بریگیڈیئر انوار کے مطابق یہاں نوجوانوں کے شوق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے جس سے اس علاقے کے بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روز گار مہیا ہو گا اور دوسرا یہ کہ دنیا کو یہ پیغام دیا جائے گا یہاں کے لوگ پر امن اور محنتی ہیں۔

زیر تربیت نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ کام وہ اپنے شوق سے کر رہے ہیں اس لیے کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی اور ان کی خواہش ہے کہ وہ یہ تیار کردہ فٹ بال عالمی کھلاڑیوں میسی اور زیڈان کے علاوہ امریکی صدر کو بھی پیش کریں۔

پاکستان میں اگرچے قومی فٹ بال ٹیم کی کارکردگی کوئی نمایاں نہیں ہے لیکن پھر بھی عوامی سطح پر فٹ بال کا کھیل انتہائی مقبول ہے اور قبائلی علاقوں میں تو یہ کھیل جنون کی حد تک پسند کیا جاتا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں طالبان بھی اس کھیل کو پسند کرتے ہیں اور گزشتہ سال جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانہ میں ایک فٹ بال ٹورنامنٹ بھی منعقد کرایا گیا تھا جس کے لیے اچھے اچھے کھلاڑیوں کو معاوضہ دے کر خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے وانہ بلایا گیا تھا ۔

اسی بارے میں